تارکین وطن کی دو کشتیاں لیبیا کے ساحل پر الٹ گئیں، 4 افراد ہلاک

لیبیا کے ساحل پر تارکینِ وطن کی دو کشتیوں کے الٹنے کے واقعات میں چار افراد ہلاک ہو گئے ہیں۔ یہ حادثہ لیبیا کے ساحلی شہر الخمس کے قریب پیش آیا، جہاں 95 غیر قانونی تارکینِ وطن کو لے جانے والی دو کشتیاں سمندر میں الٹ گئیں۔

حکام کے مطابق ایک کشتی میں بنگلادیش سے تعلق رکھنے والے 26 تارکینِ وطن سوار تھے، جن میں سے چار افراد اپنی جان سے ہاتھ دھو بیٹھے۔ دوسری کشتی میں 69 افراد سوار تھے، جن میں مصری اور سوڈانی تارکینِ وطن شامل تھے۔ لیبیا کوسٹ گارڈ کی جانب سے جاری کردہ معلومات کے مطابق، دوسری کشتی میں موجود 91 افراد کو ریسکیو کر کے محفوظ نکال لیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: حکومت کا ملک بھر میں 95 ہزار ملازمتیں پیدا کرنے کا منصوبہ

لیبیا گزشتہ کئی برسوں سے یورپ کی جانب بحیرۂ روم عبور کرنے کی کوشش کرنے والے افریقی اور ایشیائی تارکینِ وطن کے لیے ایک اہم گزرگاہ بن چکا ہے۔ یہاں خستہ حال کشتیوں کے ذریعے سمندر پار کرنے کی کوشش اکثر جان لیوا ثابت ہوتی ہے اور غیر قانونی تارکینِ وطن کو خطرات کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ یہ حادثہ ایک بار پھر اس حقیقت کو اجاگر کرتا ہے کہ غیر قانونی سمندری راستے نہ صرف خطرناک ہیں بلکہ انسانی جانوں کے لیے شدید خطرات بھی رکھتے ہیں۔

لیبیا کے ساحل پر یہ سانحہ اس بات کی یاد دہانی ہے کہ تارکینِ وطن کی غیر قانونی نقل و حرکت پر قابو پانے کے لیے حفاظتی اقدامات اور موثر نگرانی کی اشد ضرورت ہے۔ حکام اور مقامی انتظامیہ مسلسل کوششیں کر رہی ہیں کہ ایسے حادثات کم سے کم ہوں، مگر بدقسمتی سے خستہ کشتیوں اور سمندری خطرات کی وجہ سے یہ واقعات وقتاً فوقتاً رونما ہوتے رہتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: برطانیہ: تارکینِ وطن کیلئے عارضی رہائش دینے کا نیا حکومتی منصوبہ

یہ واقعہ عالمی برادری کے لیے بھی ایک انتباہ ہے کہ تارکینِ وطن کی حفاظت اور انسانی جانوں کی ہلاکتوں کو روکنے کے لیے فوری اقدامات کی ضرورت ہے۔

Scroll to Top