بشریٰ بی بی کی ہمشیرہ مریم ریاض وٹو نے حالیہ الزامات، مختلف میڈیا رپورٹس اور دی اکانومسٹ کے آرٹیکل پر سخت ردِعمل ظاہر کرتے ہوئے کہا ہے کہ دی اکانومسٹ کے آرٹیکل میں حقائق کی درستگی کیلئے پیغام بھیجا گیا ہے اور ہمارے خاندان میں کوئی جادو کرنے کا سوچ بھی نہیں سکتا۔
انہوں نے مزید واضح کیا کہ جو بھی جادو سے متعلق الزامات لگا رہا ہے، وہ اس کے معتبر اور ٹھوس ثبوت پیش کرے، کیونکہ خاندان میں ایسے امور کا تصور بھی نہیں کیا جا سکتا۔ نجی ٹی وی کے پروگرام میں گفتگو کرتے ہوئے مریم ریاض وٹو نے متعدد نکات پر بات کی اور کہا کہ بشریٰ بی بی کے حوالے سے دوپٹہ نہ لینے کی بات درست نہیں۔ ان کے مطابق یہ بات حقیقت کے برعکس ہے اور اس طرح کے بیانات بلاجواز پھیلائے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جو جادو کے الزامات لگا رہا ہے وہ ثبوت دے، بشریٰ بی بی کی شادی 18 سال کی عمر سے بھی پہلے ہوئی تھی۔
یہ بھی پڑھیں: مسلم طالبہ کیساتھ زیادتی ، بی جے پی لیڈر پدم راجن کو موت تک عمرقید کی سزا
اپنی گفتگو میں انہوں نے بانی پی ٹی آئی سے متعلق بھی اہم وضاحتیں کیں۔ ان کا کہنا تھا کہ بانی پی ٹی آئی اپنے فیصلے خود کرتے ہیں، جھوٹے الزامات پی ٹی آئی کے اندر سے پھیلائے گئے۔ انہوں نے مزید کہا کہ بانی پی ٹی آئی نے بڑے بڑے فیصلے کیے، ان کے پیچھے بشریٰ بی بی نہیں تھیں، شوہر اور بیوی ایک دوسرے سے مشورے کرتے ہیں۔
مریم ریاض وٹو نے گفتگو کے دوران اس تاثر کو بھی یکسر رد کیا کہ بانی پی ٹی آئی نے اپنے فیصلوں میں کسی مافوق الفطرت یا غیبی عمل سے رہنمائی لی۔ ان کا کہنا تھا کہ خاندان کے خلاف ایسے دعوے بے بنیاد ہیں اور ان کا مقصد صرف غلط فہمیاں پھیلانا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ خاندان کے خلاف پھیلائی جانے والی غلط معلومات نہ صرف حقیقت کے منافی ہیں بلکہ ایک منظم پروپیگنڈا کا حصہ معلوم ہوتی ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: خون میں کولیسٹرول کیوں بڑھتا ہے ؟ بنیادی وجوہات سامنے آگئیں
انہوں نے کہا کہ دی اکانومسٹ کو حقائق سے آگاہ کرنے کے لیے واضح پیغام بھیجا گیا ہے، تاکہ رپورٹنگ میں موجود غلطیوں کی اصلاح ہو سکے۔ ان کے مطابق بشریٰ بی بی کے بارے میں جاری کی جانے والی کئی باتیں نہ صرف غلط ہیں بلکہ خاندان کی ساکھ کو متاثر کرنے کے لیے جان بوجھ کر پھیلائی گئیں۔




