ماہرین صحت کا کہنا ہے کہ خون میں کولیسٹرول بڑھنے کی سب سے بڑی وجہ غیر صحتمند طرزِ زندگی ہے، لیکن کچھ طبی اور وراثتی عوامل بھی اس میں کردار ادا کرتے ہیں جو دل کی بیماریوں کے خطرے کو بڑھا سکتے ہیں ۔
غلط غذا:
سب سے پہلے غذائی عادات کا مسئلہ آتا ہے ۔ زیادہ چکنائی والے کھانے، تلی ہوئی اشیاء، بیکری مصنوعات اور پیک شدہ اسنیکس نقصان دہ کولیسٹرول (LDL) کی سطح بڑھا دیتے ہیں ۔
یہ خراب کولیسٹرول شریانوں کی دیواروں پر جمع ہو کر خون کی روانی میں رکاوٹ پیدا کرتا ہے اور دل کی بیماریوں کے امکانات بڑھاتا ہے۔
اس لیے صحت مند اور متوازن غذا، جس میں سبزیاں، پھل، دالیں اور کم چکنائی والی پروٹین شامل ہوں، ضروری ہے۔
ورزش کی کمی بھی کولیسٹرول بڑھنے کا ایک اہم سبب ہے۔ جسمانی سرگرمی نہ ہونے کی وجہ سے فائدہ مند کولیسٹرول (HDL) کم اور نقصان دہ کولیسٹرول بڑھتا ہے۔
ماہرین تجویز کرتے ہیں کہ روزانہ کم از کم تیس منٹ کی ہلکی پھلکی چہل قدمی یا ورزش کولیسٹرول کے توازن کو بہتر بنانے میں مدد دیتی ہے ۔
وراثت:
وراثت بھی ایک بڑا عنصر ہے۔ کچھ افراد میں کولیسٹرول کی بلند سطح پیدائشی طور پر موجود ہوتی ہے ۔
خاندان میں دل کی بیماریوں کی تاریخ رکھنے والے افراد کو باقاعدہ ٹیسٹ کروانا چاہیے تاکہ ابتدائی مراحل میں احتیاطی تدابیر اختیار کی جا سکیں۔
کولیسٹرول بڑھنے میں بعض طبی مسائل بھی شامل ہیں، جیسے ذیابیطس، تھائرائیڈ کی کمی، جگر یا گردے کی بیماریاں، اور کچھ آٹوامیون مسائل ۔
یہ بیماریاں جسم میں کولیسٹرول کے توازن کو متاثر کرتی ہیں اور دل کی صحت کے لیے خطرہ بڑھاتی ہیں۔
طبی بیماریاں:
ذیابیطس، تھائرائیڈ کی کمی، جگر یا گردوں کی بیماریاں اور کچھ آٹوامیون مسائل بھی کولیسٹرول بڑھا دیتے ہیں ۔
سگریٹ نوشی:
آخر میں سگریٹ نوشی بھی نقصان دہ ہے۔ سگریٹ نوشی( ا یچ ڈی ایل )کو کم اور( ایل ڈی ایل )کو بڑھا دیتی ہے، جس سے دل اور شریانیں متاثر ہوتی ہیں ۔
خوش قسمتی سے سگریٹ چھوڑنے سے کولیسٹرول کا توازن بہتر ہوتا ہے اور دل کی بیماریوں کا خطرہ کم ہو جاتا ہے ۔




