لاہور(کشمیر ڈیجیٹل)پنجاب کے ضلع کپور تھلہ کی رہائشی سکھ یاتری سربجیت کور نے اسلام قبول کرکےپاکستانی شہری ناصر حسین سے نکاح کرلیا۔
شادی 5 نومبر کو انجام پائی، نکاح نامہ میں سبجیت کور کا نیا نام “نور” درج ہے۔ یاتریوں کی واپسی پر نہ ملنے پر سربجیت کور کی گمشدگی کا شبہ ہوا۔

سربجیت کور نے خود کو طلاق یافتہ اور دو بچوں کی ماں ظاہر کیا،بھارتی یاتری کافی عرصے سے پاکستان کا ویزہ لینے کی کوشش کر رہی تھیں ۔سکھ یاتری بابا گرونانک کے جنم دن کے موقع پر بھارتی یاتریوں کے گروپ میں شامل ہو کر پاکستان آئی تھیں۔
نکاح کے مطابق 48 سالہ سربجیت کور نے 5 نومبر کو ضلع شیخوپورہ کے فاروق آباد میں شادی کی، اور ان کا اسلامی نام نور رکھا گیا۔ نکاح میں 10 ہزار روپے کا حق مہر درج ہے جو ادا کیا جا چکا ہے۔
سربجیت کور 4 نومبر کو بھارتی یاتریوں کے ساتھ پاکستان آئیں تھیں، لیکن 13 نومبر کو بھارت واپس جانے والے گروپ میں شامل نہیں تھیں، جبکہ اسی روز ان کا ویزہ بھی ختم ہو گیا تھا۔ ابتدائی طور پر انہیں لاپتہ قرار دے کر تلاش کیا گیا، تاہم بعد میں معلوم ہوا کہ انہوں نے اسلام قبول کر کے شادی کر لی ہے۔
<strongمزید یہ بھی پڑھیں ـایران پاسداران انقلاب نےاسرائیلی آئل ٹینکر قبضے میں لے لیا
بھارتی میڈیا کے مطابق 52 سالہ سربجیت کور پنجاب کے ضلع کپورتھلہ کی رہائشی ہیں، وہ اور دیگر سکھ زائرین 4 نومبر کو واہگہ، اٹاری بارڈر کراس کر کے پاکستان آئے تاکہ گرُو نانک دیو کے 555ویں جنم دن کی تقریب، پراکاش پرَو میں شرکت کر سکیں۔ زائرین کی تعداد 1,992 تھی جو تقریباً 10 دن بعد 13 نومبر کو واپس بھارت لوٹے، لیکن سربجیت کور ان کے ساتھ واپس نہیں آئیں۔

بعد ازاں ایک اردو نکاح نامہ سامنے آیا جس میں بتایا گیا کہ سربجیت کور نے اسلام قبول کر کے اپنا نام ”نور“ رکھ لیا اور لاہور سے تقریباً 56 کلومیٹر دور شیخوپورہ کے رہائشی ناصر حسین سے شادی کر لی۔ نکاح نامہ کی تصدیق خود مختار ذرائع سے ابھی ممکن نہیں ہو سکی۔
سربجیت کور پہلے طلاق یافتہ تھیں اور ان کے دو بیٹے ہیں، جن کے والد کرنائل سنگھ ہیں جو پچھلے تین دہائیوں سے انگلینڈ میں رہائش پذیر ہیں۔ ان کا پاسپورٹ پنجاب کے مکسر ضلع میں جاری کیا گیا تھا۔ ابتدائی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے کہ وہ پاکستان میں لاپتا ہو گئی تھیں اور ان کے ملک واپس آنے کا ریکارڈ موجود نہیں ہے۔
ان کے واپس نہ آنے پر بھارتی امیگریشن ڈیپارٹمنٹ نے فوری طور پر پنجاب پولیس کو اطلاع دی۔ پولیس نے ابتدائی رپورٹ دیگر اداروں کو ارسال کر دی ہے اور بھارتی مشن پاکستان کی متعلقہ حکام سے رابطے میں ہے تاکہ خاتون کے لاپتا ہونے کی وجوہات معلوم کی جا سکیں۔
ہر سال شیروانی گردوارہ پر بندھک کمیٹی کی جانب سے سکھ زائرین کی ایک ٹیم پاکستان بھیجی جاتی ہے تاکہ تاریخی گردواروں کی زیارت کی جا سکے۔ اس سال سکھ زائرین کو 10 دن کی زیارت کے لیے اجازت دی گئی تھی، جو پہلے حفاظتی وجوہات کے باعث روک دی گئی تھی۔




