اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)جوڈیشل کمپلیکس اسلام آباد میں حملہ آور کے بائیک رائیڈ لینے کا معاملہ،حکومت نے غیر رجسٹرڈ بائیک سروس فراہم کرنیوالے موٹر سائیکلوں کیخلاف کریک ڈاؤن کا فیصلہ کر لیا۔
راولپنڈی میں بغیر رجسٹریشن آن لائن بائیک چلانے والوں کا سروےشروع کردیا،تھانہ آر اے بازار،نصیر آباد، گنجمنڈی اور سٹی کے علاقوں میں سروے کیا جارہا ہےپہلے دن کی سروے رپورٹ تیار کرکےاعلیٰ حکام کو بجھوا دی گئی۔
بغیر اپلیکشن آن لائن بائیک چلانے والوں کےخلاف قانونی کارروائی کا امکان ہے،آن لائن بائیک سروس فراہم کرنے والوں کے لئے اپلیکیشن رجسٹریشن لازمی قرار دیدیا گیا ہے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:ہیروں سے جڑادنیا کا سب سے مہنگا آئی فون 17 فروخت کیلئے پیش
حساس ادارے نے بغیر رجسٹریشن بائیک چلانے والے افراد کا سروے شروع کر دیا، پہلے دن کی سروے رپورٹ تیار کر کے حکام کو بھجوا دی گئی۔
سروے رپورٹ تھانہ آر اے بازار، نصیر آباد، گنجمنڈی، سٹی کے علاقوں کے سروے کر کے تیار کی گئی۔
بائیک سروس فراہم کرنے والے افراد کے لئے ایپلی کیشن رجسٹریشن لازمی قرار دی گئی، بغیر ایپلی کشن بائیک چلانے والوں کے خلاف قانونی کارروائی کی جائے گی۔
جڑواں شہروں میں میٹرو اسٹیشنز، تجارتی مراکز اور بڑے چوراہوں کے باہر سبز رنگ کے ’بائیکا‘ ہیلمٹ پہنے رائیڈرز کھڑے نظر آتے ہیں جن کی وجہ سے ٹیکسیوں کے کاروبار میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے۔
یہ آن لائن بائیک ہیلنگ سروسز سیکڑوں لوگوں کو روزگار کے مواقع فراہم کر رہی ہیں جو اس کی بدولت کم از کم اجرت سے زیادہ کما رہے ہیں۔
اسلم خان نامی ایک موٹر سائیکل رائیڈر کا کہنا ہے کہ ’ہم نے اس سروس کا انتخاب کیا کیونکہ لوگ اسے تیزی سے قبول کر رہے ہیں، ایک رائیڈر کی یومیہ اوسط آمدن 2 ہزار روپے ہے لیکن بعض اوقات ہم ایک دن میں ڈھائی ہزار روپے بھی کما لیتے ہیں‘۔




