پیٹرول

آئندہ پندرہ دنوں کیلئے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں واضح ردوبدل کا امکان

بین الاقوامی مارکیٹ میں معمولی اتار چڑھاؤ کے باعث پاکستان میں آئندہ 15 دنوں کے لیے پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں واضح ردوبدل کا امکان ہے ۔

ذرائع کے مطابق 15  سے 30 نومبر تک کے لیے قیمتوں کا نیا جائزہ حکومت کو بھیج دیا گیا ہے جس میں پٹرول سستا جبکہ بقیہ مصنوعات مہنگا ہونے کی توقع ہے ۔

موجودہ ٹیکس اور لیوی کی شرحوں کی بنیاد پر ہائی اسپیڈ ڈیزل کی ایکس ڈپو قیمت میں نو روپے پچاس پیسے فی لٹر تک اضافہ ہو گا جو تقریباً 3.4 فیصد بنتا ہے ۔

اس کے برعکس پٹرول کی قیمت میں تقریباً 2 روپے فی لٹر کمی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے جو اوسطاً 0.7 فیصد ہے ۔

سرکاری اعداد و شمار کے مطابق یکم جون سے اب تک پٹرول 12 روپے 50 پیسے جبکہ ڈیزل 23 روپے فی لٹر مہنگا ہو چکا ہے ۔

مٹی کے تیل کی قیمت میں 8 روپے 80 پیسے اور لائٹ ڈیزل آئل میں 7 روپے 15 پیسے فی لٹر اضافے کا خدشہ ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:امریکی دباؤ کام کرگیا، بھارت کا روس سے تیل خریداری سے انکار

اس وقت مٹی کا تیل 185 روپے اور ایل ڈی او 164 روپے فی لٹر کے حساب سے فروخت ہو رہا ایکس ڈپوپٹرول کی موجودہ قیمت 265 روپے 45 پیسے ہے جو کمی کے بعد 263 روپے 50 پیسے تک آنے کی توقع ہے ۔

پٹرول زیادہ تر موٹر سائیکل ، رکشہ اور چھوٹی گاڑیوں میں استعمال ہوتا ہے اور اس کے نرخوں میں کمی یا اضافہ براہِ راست متوسط اور نچلے طبقے کی روزمرہ زندگی پر زیادہ اثر انداز ہوتا ہے ۔

اس کے برعکس ہائی اسپیڈ ڈیزل کی قیمت 278 روپے 44 پیسے سے بڑھ کر 288 روپے فی لٹر ہونے کا امکان ہےچونکہ یہ ایندھن ٹرانسپورٹ اور زرعی مشینری کی بنیادی ضرورت ہے اس لیے اس میں اضافہ سبزیوں، اناج، کھانے پینے کی اشیا اور مال برداری کے کرایوں میں مزید مہنگائی کا باعث بن سکتا ہے ۔

ٹرانسپورٹ مالکان اس سے قبل مئی تا اگست ڈیزل کی قیمتوں میں ہونے والے 27 روپے فی لٹر اضافے کی بنیاد پر کرائے بڑھا چکے ہیں اور بعد میں ہونے والی کمی کے باوجود انہیں واپس نہیں لیا گیا۔ حکومت کے لیے پٹرول اور ڈیزل ایک بڑی ریونیو اسٹیریم ہیں جن کی ماہانہ اوسط فروخت 7 سے 8 لاکھ ٹن تک رہتی ہے ۔