حکومت وائس چیف آف آرمی اسٹاف کا تقرر نہیں کررہی،ذرائع

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل)وفاقی حکومت نے وائس چیف آف آرمی اسٹاف کے تقرر کا فیصلہ نہیں کیا ، تقرری چیف آف ڈیفنس فورسز کی مشاورت سے مشروط ہوگی۔

ذرائع کے مطابق کہ وائس چیف آف آرمی اسٹاف کے عہدے سے متعلق شق پہلے ہی آرمی ایکٹ میں موجود ہے۔ جس کے مطابق وائس چیف آف آرمی اسٹاف کی تقرری کو چیف آف ڈیفنس فورسز کی مشاورت سے مشروط کر دیا گیا ۔

ذرائع نے بتایا کہ وفاقی کابینہ نے مجموعی طور پر چھ قوانین میں ترامیم کی منظوری دی ہے، جن میں تینوں مسلح افواج کے سروسز ایکٹس میں تبدیلیاں شامل ہیں۔

ترمیم کے تحت فیلڈ مارشل، مارشل آف دی ایئر اور ایڈمرل آف دی فلیٹ کے عہدوں کو باضابطہ طور پر قانونی تحفظ دیا جائے گا۔

کابینہ نے اس موقع پر چیف آف ڈیفنس سروسز کے ایک نئے عہدے کے قیام کے لیے قانون سازی کی بھی منظوری دے دی ہے۔ اس کے علاوہ کمانڈر آف دی نیشنل اسٹریٹیجک کمانڈ کے نئے عہدے کے قیام کے لیے بھی الگ قانون لانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔

ذرائع کے مطابق وفاقی کابینہ نے وفاقی آئینی عدالت کے قیام سے متعلق نئی قانون سازی کے لیے بل تیار کرنے اور اسے پیش کرنے کی منظوری بھی دی ہے۔

وفاقی کابینہ کی منظوری کے بعد یہ تمام بل قومی اسمبلی میں پیش کیے جائیں گے، اور وہاں سے منظوری کے بعد انہیں سینیٹ میں بھیجا جائے گا تاکہ پارلیمانی عمل مکمل کیا جا سکے۔

27ویں آئینی ترمیم کے نفاذ کے بعد فیلڈ مارشل سید عاصم منیر پاکستان کے پہلے چیف آف ڈیفنس فورسز بن گئے ہیں۔ اس آئینی ترمیم کے تحت پاکستان میں باضابطہ طور پر چیف آف ڈیفنس فورسز کا نیا عہدہ قائم کیا گیا ہے، اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کو اس نئے منصب پر ملک کا پہلا سربراہ مقرر کیا گیا ہے۔

یہ اہم پیش رفت نہ صرف 27ویں آئینی ترمیم کے تسلسل کا حصہ ہے بلکہ مسلح افواج کے ڈھانچے میں ایک نئی ادارہ جاتی سطح کا اضافہ بھی قرار دی جا رہی ہے، جس کا مقصد دفاعی قیادت کے نظام کو مزید مضبوط اور منظم بنانا ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:جسٹس امین الدین خان کو آئینی عدالت کا چیف جسٹس بنائے جانے کا امکان

Scroll to Top