افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کے مکروہ چہرے دنیا کے سامنے بے نقاب

اسلام آباد: افغان طالبان کی رجیم اور فتنہ خوارج جیسے انتہا پسند گروہ ایک بار پھر اسلام کے مقدس نام کو اپنے ناپاک مقاصد کے لیے استعمال کر رہے ہیں اور ان عناصر کے حقیقی چہرے اب دنیا کے سامنے بے نقاب ہو رہے ہیں۔

رپورٹس کے مطابق یہ گروہ اسلام جیسے پرامن مذہب کو دہشت گردی کی علامت بنانے پر تلے ہوئے ہیں۔ معصوم انسانوں کا خون بہانا، خودکش دھماکے کرنا اور مساجد کو نشانہ بنانا اسلام نہیں بلکہ انسانیت کے خلاف جرم ہے۔ افغان طالبان رجیم ایک طرف اماراتِ اسلامی کی بات کرتے ہیں اور دوسری طرف ہندوتوا نظریہ سے بھی تعلقات رکھتے ہیں۔

یہ بھی پڑھیں: تینوں مسلح افواج کے لیےقومی اسمبلی نئے ضابطوں کی منظوری دے گی

افغان طالبان کے آفیشل اور نان آفیشل اکاؤنٹس مسلسل پاکستان پر حملوں کی دھمکیاں دیتے رہتے ہیں۔ حیران کن طور پر یہ گروہ بھارت میں ہونے والے دہشتگردانہ حملوں کی مذمت کرتا ہے، جبکہ پاکستان میں ہونے والی دہشتگردی پر مکمل خاموش رہتا ہے۔ اس رویے سے یہ واضح ہو جاتا ہے کہ افغان طالبان رجیم اپنی وفاداری بھارت کے لیے ظاہر کرنا چاہتے ہیں، اور پاکستان کے خلاف جاری دہشتگردانہ کارروائیوں میں ان کی خاموشی تشویشناک ہے۔

اسلام نے ہر دور میں امن و امان قائم کرنے کا حکم دیا ہے، لیکن افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج نفرت، تشدد اور بربریت کے علمبردار بنے ہوئے ہیں۔ وہ نہ صرف اسلام کے نام کو بدنام کر رہے ہیں بلکہ انسانیت کے خلاف بھی کھلے عام کارروائیاں کر رہے ہیں۔

تحقیقاتی رپورٹس کے مطابق افغان طالبان رجیم اور فتنہ الخوارج کا مکروہ چہرہ اب دنیا کے سامنے عیاں ہو چکا ہے اور عالمی برادری کے لیے یہ ایک چیلنج بن چکا ہے کہ وہ ایسے عناصر کے اصل عزائم کو پہچانے اور ان کے خلاف مؤثر اقدامات کرے۔

یہ بھی پڑھیں: کینیڈا نے بین الاقوامی گریجویٹ اسٹوڈنٹس کے اسٹڈی پرمٹ قوانین آسان کر دیے

یہ حقیقت کہ افغان طالبان رجیم ایک طرف اماراتِ اسلامی کا لبادہ اوڑھ کر عالمی سطح پر اپنی تصویر مثبت بنانے کی کوشش کرتے ہیں اور دوسری طرف دہشتگردانہ سرگرمیوں میں مشغول ہیں، عالمی سیاست میں ایک پیچیدہ صورتحال پیدا کر رہی ہے۔

Scroll to Top