کرن عزیز کشمیری

بھارتی دہشتگردی عروج پر

تحریر : کرن عزیز کشمیری
Kiranazizkashmiri@gmail.com

تفصیلات کے مطابق بھارت سمندر میں فالس فلیگ آپریشن کی تیاری کر رہا ہے یعنی بھارت پاکستان کے ہاتھوں شکست فاش کے بعد انتقامی جذبات کو ہوا دے کر دوبارہ ہزیمیت اُٹھانےکی پوزیشن میں آنے والا ہے۔ اس وقت یہ واحد ا یسا ملک ہے جس کی پوری کوشش ہے کہ خطے کا امن اور استحکام خطرے سے دوچار ہو۔

امریکہ کی میٹھی میٹھی سرپرستی میں بھارت خطے کا ٹھیکیدار براہ راست بننے کے جو ڈراؤنے خواب دیکھ رہا ہے کبھی پایا تکمیل تک نہیں پہنچ سکتے

افغانستان کے ذریعے دہشت گردی کا جال بچھانے کی بھارتی کوششیں دنیا کے سامنے بے نقاب ہوئی ہیں۔ بے گناہ کشمیریوں کے خون سے ہولی کھیلنے والا بھارت ہمیشہ جنگی جنون میں مبتلا رہا ہے۔

بھارتی دہشت گردی سے اندرون بھارت مسلمان بھی محفوظ نہیں۔ ہندو توا کا نظریہ بھارت میں خوب پھل پھول کر ایک تناور درخت کی صورت اختیار کر چکا ہے۔

جس کی جڑیں مودی حکومت نے اپنے پہلے دور حکومت سے ہی مضبوط کر لی تھی۔ جھوٹ اور مکاری کی حکومت کا وطیرہ ہے اور اب مسلسل لب و لہجہ بن چکا ہے ۔ بھارتی دہشت گردی کی مختلف اقسام ہیں۔ بیک وقت پاکستان ،اندرون بھارت مسلمان اور کشمیری مسلمانوں کو نشانہ بنانے کی پالیسی

ہی دراصل اصل ایجنڈا ہے۔ ایک اطلاع کے مطابق مقبوضہ کشمیر میں بی جے پی کشمیری مسلمانوں کے عقائد و ثقافت کو نشانہ بنا رہی ہے۔ بھارتی ثقافتی یلغار بھارت کے خطرناک عزائم کو بے نقاب کرتی ہے اور اس امر کی عکاسی کرتی ہے کہ بھارت مقبوضہ وادی کے ماحول کو بدلنے کی تیاریوں میں مصروف عمل ہے۔

کشمیریوں کی منفرد شناخت ختم کرنے کے لیے بھارت اس حد تک اوچے ہتھکنڈوں پر اتر آئے گا۔ اس ناقابل برداشت رویے پر ہر طرف سے مذمت کا سلسلہ جاری ہے۔ بھارتی دہشت گردی کی یہ قسم کشمیریوں کے لیے باعث حیرت نہیں بلکہ انتہائی پریشان کن امر ہے۔ کشمیری اپنے بچوں کے مستقبل کے حوالے سے پریشان ہے۔ پاکستان کے ساتھ جنگ میں بھارت کی فوجی صلاحیت کی قلعی کھل چکی ہے۔

یہ وہی بھارت ہے جس نے معصوم کشمیریوں کو غلام بنا کر اپنا اصل چہرہ چھپانے کی کوشش کی یعنی جنگی جذبے کا شکار بھارت پاکستان کے سامنے ڈھیر ہوگیا۔

یہ امر انتہائی اہم ہے کہ بھارت اور امریکہ مسلمانوں کے خیر خواہ نہیں ہو سکتے لہذا کچھ دانشور اگر یہ رائے رکھتے ہیں کہ امریکہ و بھارت کے تعلقات یا قربت کو نظر انداز کر دینا چاہیے تو ایسا ممکن نہیں ۔۔

بھارت ایک دہشت گرد ملک ہے اور خطے کے امن کیلئے بھارتی عزائم کو بلایا نہیں جا سکتا نہ یہ حقیقت مٹ سکتی ہے کہ بھارت مسلمانوں کا دشمن ہے خاص طور پر پاکستان کیلئے بھارتی عزائم سے تو اب پوری دنیا آشکار ہو چکی ہے۔

اب بھا رت سمندر یا فضائی حملے کی تیاریوں میں مصروف ہے اور احمکوں کی جنت میں رہنے کے مترادف ہے۔ بھارت کا یہ امر بھارت خود خطے میں دہشت گردی کا اصل مجرم اور مالی معاون ہیں۔

اس سلسلے میں افغانستان سے تعاون کی امید بھارت کے خطرناک عزائم ظاہر کرتی ہے اور پڑوسی ملک کی پوری کوشش ہے کہ پاک افغان برادرانہ تعلقات اس نہج پر پہنچ جائیں کہ بھارت کو افغانستان کے ساتھ جنگ کے میدان میں مستقل طور پر کودنا پڑ جائے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:کیڈٹ کالج حملہ: خوارج کی سازش ناکام ، کیڈٹس اور اساتذہ کے حوصلے بلند

ہم دیکھ رہے ہیں کہ مقبوضہ کشمیر کی صورتحال پر دنیا اب بھی خاموش ہے۔ چپکے چپکے بھارت اپنے مختلف اہداف کی طرف گامزن ہیں اور بھارتی حکومت اور وہاں کی عدالتیں انسانوں میں صرف ایک مذہب کے لوگوں کو زیادہ ترجیح دے رہی ہے۔

مقبوضہ وادی میں بھارتی اقدامات پر دنیا کی سرد مہری ہے یا پھر نام نہاد انتہائی حقوق کی تنظیموں کی سرد رویے سے یہ مسئلہ نہ مٹ سکتا ہے اور نہ ہی ختم کیا جا سکتا ہے

بھارتی دہشت گردی مقبوضہ وادی میں بھی عروج پر ہے اور میڈیا پر پابندی لگانے سے یا پھر حریت رہنماؤں کو قید میں رکھنے سے بھارت کے اقدامات پمپ نہیں سکتے چھپ نہیں سکتے یا دنیا کی نظروں سے اوجھل نہیں ہو سکتے۔

مقبوضہ کشمیر کبھی بھی بھارت کا اندرونی معاملہ نہیں رہا ہے بھارت کے جھوٹے دعووں کو کشمیری ہمیشہ مسترد کرتے آئے ہیں۔

مقبوضہ وادی کی عوام بھارت کے ساتھ اپنی زبردستی رشتے کو گھسیٹ رہی ہے جی نہیں رہی ۔دوسری جانب افغانستان کی سرزمین پاکستان کے خلاف استعمال کرنے کے بعد بھارت کی پوری کوشش ہے کہ دونوں ملکوں کے آپس تعلقات خراب ہوں۔

اس وقت بھارت تمام تر اوچے کے ہتھکنڈوں پر اتر آیا ہے۔ مودی سرکار اپنی کرسی بچانے کی خاطر پاکستان سے چھیڑ خانی کے جس راستے پر چلنے کی کوشش کرنے لگی ہے۔

منہ کے کھانے کے لیے تیار ہے کیونکہ اب پلٹ کر وار اسی حکومت کے اوسان خطا کر دے گا پاکستان نے دنیا کے سامنے بھارت کی حقیقت کھول کر رکھ دی ہے کہ بھارت کس طرح تشدد کو بڑھاوا دیتا ہے۔

خطے کے دو ممالک اسرائیل اور امریکہ بھارت کے پسندیدہ سرپرست ہیں اور مفادات کی میز پر ایک دوسرے کے ساتھ تعاون کے بھی خواہاں ہیں تاہم پاکستان کے ساتھ ٹکراؤ بھارت کے لیے نقصان ہے۔

Scroll to Top