جہلم ویلی (کشمیر ڈیجیٹل ) پرائیویٹ اسکولز اینڈ کالجز ایسوسی ایشن (ایپسکا) جہلم ویلی کے صدر نبیل انجم عباسی نے سال اول فرسٹ اینول 2025 کے نتائج میں سامنے آنے والی خامیوں، غیر تسلی بخش کارکردگی، اور امتحانی شفافیت کے فقدان پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ ان نتائج میں پائے جانے والے نقائص طلبہ کے مستقبل پر منفی اثرات مرتب کر سکتے ہیں، اس لیے بورڈ انتظامیہ کو فوری طور پر اس معاملے کی جامع جانچ پڑتال کرنی چاہیے۔
ایپسکا صدر نبیل انجم عباسی نے اس حوالے سے چیئرمین آزاد جموں و کشمیر انٹرمیڈیٹ و ثانوی تعلیمی بورڈ میرپور کو ایک باضابطہ خط ارسال کیا ہے، جس میں امتحانی نتائج میں موجود خامیوں اور سنگین انتظامی مسائل کی تفصیل بیان کی گئی ہے۔ خط میں واضح طور پر نشاندہی کی گئی ہے کہ مارکنگ کے عمل میں شفافیت کی کمی، نتائج کے اجرا میں تاخیر، اور ریکارڈ کی درستی پر سوالات اٹھ رہے ہیں، جو نہ صرف تعلیمی اداروں بلکہ طلبہ اور والدین کے لیے بھی باعثِ تشویش ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیڈٹ کالج حملہ: خوارج کی سازش ناکام ، کیڈٹس اور اساتذہ کے حوصلے بلند
نبیل انجم عباسی کا کہنا ہے کہ تعلیمی ادارے اپنی سطح پر طلبہ کی رہنمائی، محنت، اور تربیت میں کوئی کسر نہیں چھوڑ رہے، لیکن اگر بورڈ کی جانب سے نتائج کی جانچ کے عمل میں غیر شفافیت برتی جائے تو یہ پورے نظامِ تعلیم پر منفی اثر ڈالتی ہے۔ ان کے مطابق، ایسے حالات میں نہ صرف طلبہ کا حوصلہ کم ہوتا ہے بلکہ والدین اور اساتذہ کا اعتماد بھی مجروح ہوتا ہے۔
انہوں نے مزید کہا کہ شفاف امتحانی نظام ہی کسی بھی تعلیمی معیار کی بنیاد ہوتا ہے، اور اگر نتائج کی تیاری میں غفلت یا بدانتظامی کا عنصر شامل ہو تو طلبہ کی محنت ضائع ہو جاتی ہے۔ ایپسکا صدر نے چیئرمین بورڈ سے مطالبہ کیا کہ فوری طور پر جامع تحقیقات کی جائیں اور ایسے اصلاحی اقدامات کیے جائیں جن سے آئندہ اس نوعیت کی شکایات جنم نہ لیں۔
دوسری جانب، نبیل انجم عباسی کے مؤقف کے بعد والدین، اساتذہ اور تعلیمی ماہرین نے بھی اس معاملے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ نتائج میں شفافیت تعلیمی اعتماد کے لیے ناگزیر ہے، لہٰذا بورڈ کو چاہیے کہ وہ امتحانی نظام کو مضبوط اور منصفانہ بنائے۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان میں سونا سستاہو گیا! آج کے ریٹس جانیں
یہ خبر جہلم ویلی کے تعلیمی حلقوں میں سنجیدہ بحث کا باعث بنی ہے، جبکہ والدین اور اساتذہ نے امید ظاہر کی ہے کہ بورڈ انتظامیہ نبیل انجم عباسی کے مؤقف کو سنجیدگی سے لے گی اور طلبہ کے بہتر مستقبل کے لیے مؤثر اقدامات کرے گی۔




