جنوبی وزیرستان کے علاقے وانا میں کیڈٹ کالج پر افغان خوارج کے حملے کے بعد بھی اساتذہ اور طلبہ کے حوصلے بلند اور عزم پختہ ہیں۔ واقعے کے عینی شاہد کیڈٹس نے بتایا کہ خوارج نے تعلیم کے مرکز کو نشانہ بنانے کی کوشش کی مگر پاک فوج اور کالج سٹاف نے ان کی سازش کو ناکام بنا دیا۔
ایک کیڈٹ نے کہا، “افغان خوارج کے اس حملے کا مقصد ہماری تعلیم کو نشانہ بنانا تھا۔” اس نے مزید بتایا کہ ڈرل کے دوران اچانک خودکش حملہ ہوا مگر پاک فوج اور کالج کے اساتذہ فوراً سامنے آ گئے۔ “ہم ڈرے نہیں بلکہ پاک فوج کی مدد سے کامیاب ہوئے،” کیڈٹ نے کہا۔
دوسرے کیڈٹ کے مطابق، “مجھے دو خوارج نظر آئے جن پر پاک فوج کے جوان فائرنگ کر رہے تھے۔” اس نے بتایا کہ فوج کے جوان فوری طور پر پہنچے اور کہا، “پریشان نہیں ہونا ہم آگئے ہیں۔” حملے کے دوران طلبہ پرجوش رہے اور پاک فوج کے حق میں نعرے لگاتے رہے۔
ایک اور کیڈٹ نے بتایا کہ “خوارج ہماری بلڈنگ کی جانب بڑھ رہے تھے مگر آرمی کے جوانوں کی بروقت کارروائی نے خوارج کا راستہ روک لیا۔” اس نے کہا کہ خوارج کو موقع ہی نہیں دیا گیا کہ وہ کسی پر فائرنگ کر سکیں۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان ہر سطح پر دہشتگردی کے خلاف متحد، پرعزم اور متحرک ہے، اسحاق ڈار
کیڈٹس نے اس عزم کا اظہار کیا کہ خوارج کی یہ کوشش ہمیشہ کی طرح ناکام ہو گی۔ انہوں نے کہا کہ دشمن چاہتا ہے کہ ہم خوفزدہ ہو کر پیچھے ہٹ جائیں، مگر ہم اپنے مشن سے پیچھے نہیں ہٹیں گے۔ ایک کیڈٹ نے بتایا کہ “حملے کے دوران کئی طلبہ نے خوارج کے خلاف پتھر بھی اٹھا رکھے تھے۔”
یہ بھی پڑھیں: وفاقی آئینی عدالت کے قیام کی راہ ہموار، 27ویں آئینی ترمیم آج منظور ہونے کا امکان
پاک فوج کی بروقت کارروائی اور کیڈٹس کے بلند حوصلے نے ایک بڑے سانحے کو ٹال دیا۔ واقعے نے یہ واضح کر دیا کہ قوم کا عزم دہشتگردی کے سامنے کبھی کمزور نہیں ہوگا۔




