اسلام آباد: (کشمیر ڈیجیٹل) نائب وزیراعظم و وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار نے کہا ہے کہ دہشتگردی موجودہ دور کے بڑے عالمی چیلنجوں میں سے ایک ہے، اور پاکستان اس لعنت کے خاتمے کے لیے مسلسل اور بھرپور کردار ادا کر رہا ہے۔
اسلام آباد میں بین الاقوامی پارلیمانی اسپیکرز کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے اسحاق ڈار نے واضح کیا کہ مذاکرات، افہام و تفہیم اور شراکت داری ہی امن و سلامتی کا واحد پائیدار راستہ ہیں۔ انہوں نے کہا کہ بزدلانہ کارروائیاں پاکستان کے قومی عزم کو متزلزل یا کمزور نہیں کر سکتیں۔
نائب وزیراعظم نے کہا کہ پاکستان ہر قسم کی دہشتگردی کی کارروائیوں کو سختی سے مسترد کرتا ہے، چاہے وہ دارالحکومت اسلام آباد میں ہوں جیسا کہ کل ہوا، یا دنیا کے کسی بھی حصے میں۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ دنوں میں پاکستان نے وانا اور اسلام آباد میں دہشتگردی کی دو گھناؤنی کارروائیاں دیکھیں جن میں 15 قیمتی جانیں ضائع ہوئیں، لیکن یہ حملے پاکستان کے عزم کو کمزور نہیں کر سکتے۔
یہ بھی پڑھیں: وادیٔ نیلم میں موسمِ سرما کی پہلی بارش، سردی میں اضافہ
اسحاق ڈار نے زور دیا کہ دہشتگردی کا مقابلہ صرف فوجی کارروائیوں یا سیکیورٹی اقدامات سے نہیں کیا جا سکتا بلکہ اس کے لیے سیاسی، معاشرتی اور بین الاقوامی سطح پر مشترکہ حکمت عملی ضروری ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار امن کے لیے مذاکرات اور شراکت داری ناگزیر ہیں۔
انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ دہشتگردی کے خلاف عالمی سطح پر متحد اور مربوط حکمت عملی اپنائی جائے۔ پاکستان اس سلسلے میں عالمی شراکت داری کو فروغ دینے کے لیے تیار ہے تاکہ معلومات کے تبادلے اور بین الاقوامی تعاون کو مزید مؤثر بنایا جا سکے۔
اس موقع پر اسحاق ڈار نے سکیورٹی فورسز کی قربانیوں کو خراجِ تحسین پیش کیا اور کہا کہ ہمارے اہلکار دن رات ملک کے تحفظ کے لیے سرگرم عمل ہیں تاکہ ہر پاکستانی محفوظ زندگی گزار سکے۔
یہ بھی پڑھیں: کیڈٹ کالج وانا کلیرنس آپریشن: ایس ایس جی کمانڈو نے تفصیلات بتا دیں
نائب وزیراعظم نے دہشتگردی کے خلاف پاکستان کے غیر متزلزل عزم کو دہراتے ہوئے کہا کہ وانا اور اسلام آباد میں حالیہ حملے ہمارے حوصلے کو توڑ نہیں سکتے۔ پاکستان ہر سطح پر دہشتگردی کے خلاف متحد، پرعزم اور متحرک ہے۔




