کشمیری ایتھلیٹ محمد یوسف ملک اور مونا ہمدانی نے میراتھن ریکارڈ بنالیا

عالمی میراٹھن ریس میں کشمیری ایتھلیٹ محمد یوسف ملک اور ان کی رننگ پارٹنر مونا ہمدانی نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کرتے ہوئے عالمی ریکارڈ قائم کر دیا۔

اس کامیابی نے کشمیر اور پاکستان کے لازوال رشتے کو امر کر دیا اور دونوں کھلاڑیوں نے پاکستان اور کشمیر کا پرچم پوری دنیا میں بلند کر کے ثابت کیا کہ محنت، جذبہ اور عزم سے کوئی ہدف ناممکن نہیں۔

یہ عالمی کامیابی نہ صرف ان کی ذاتی کامیابی ہے بلکہ گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں ان کا نام درج ہونا کشمیر اور پاکستان کے نوجوانوں کے لیے ایک تاریخی مثال اور فخر کا لمحہ بھی ہے۔ مونا ہمدانی نے کہا، “میں کشمیری نہیں ہوں لیکن کشمیر ہمارے دل میں دھڑکتا ہے۔”

محمد یوسف ملک نے اپنی ذاتی جدوجہد کے بارے میں بتایا کہ ان کا بچپن کشمیر میں گزرا اور پھر وہ کراچی منتقل ہو گئے۔ “مجھے دل کا مسئلہ ہو رہا تھا تو ڈاکٹر نے کہا کہ تم رننگ شروع کرو۔ چھ ماہ تک رننگ کرنے کے بعد میرا دل بالکل فٹ ہو گیا۔ اس کے بعد میں نے رننگ کو جاری رکھا اور ایک رننگ کلب جوائن کیا جس نے مجھے متحرک کیا۔”

یہ بھی پڑھیں: بھارت کی اکڑ ٹوٹی، ایشیا کپ ٹرافی کیلئےمنتیں شروع کر دیں

انہوں نے کہا کہ ان کی رننگ کی تربیت یونان سے شروع ہوئی، جہاں میراتھن دراصل ایک گاؤں کا نام ہے اور اسی گاؤں کے نام پر میراٹھن ریس کا آغاز ہوا۔ انہوں نے ترکی، دبئی اور ایتھنز، یونان میں مختلف ریسیں کیں۔ یونان میں ایک مشہور ریس ہوتی ہے جس میں 21 کلومیٹر پہاڑ پر دوڑنا شامل ہے، اور وہاں پاکستانی بہت کم حصہ لیتے ہیں۔

محمد یوسف ملک نے بتایا کہ جب انہوں نے عالمی ریکارڈ قائم کیا، تب اپریل میں پاکستان اور بھارت میں کشیدگی تھی، اس لیے انہوں نے فیصلہ کیا کہ پاکستان کا نام روشن کریں گے۔ “3 کلومیٹر کی ریس ختم ہونے سے پہلے میں اور مونا نے فیصلہ کیا کہ ہم پاکستان اور کشمیر کا جھنڈا جوائن کر کے لہرا دیں گے۔ بہت اچھی فیلنگز تھیں، اور اسی ریس میں ہمارا نام گنیز بک آف ورلڈ ریکارڈز میں بھی درج ہوا۔”

یہ بھی پڑھیں: روس: ہیلی کاپٹردو حصوں میں ٹوٹنے کے بعد تباہ، 5 افراد جاں بحق

محمد یوسف ملک اور مونا ہمدانی کی یہ کامیابی پاکستان اور کشمیر کے لیے فخر کا لمحہ ہے اور نوجوانوں کے لیے ایک تحریک بھی ہے کہ عزم، حوصلہ اور محنت کے ساتھ عالمی سطح پر نام کمایا جا سکتا ہے۔

Scroll to Top