اسلام آباد:وفاقی حکومت نے ستائیسویں آئینی ترمیم کو سینیٹ میں منظوری کیلئے پیش کرنے کا فیصلہ کر لیا ہے سینیٹ کا اجلاس پیر کی صبح 11 بجے پارلیمنٹ ہاؤس اسلام آباد میں ہوگا ۔
اجلاس کا 45 نکاتی ایجنڈا جاری کر دیا گیا ہے جس میں متعدد اہم آئینی و قانون سازی امور شامل ہیں سینیٹر فاروق ایچ نائیک ستائیسویں آئینی ترمیم پر قائمہ کمیٹی کی رپورٹ ایوان میں پیش کریں گے جبکہ وزیرِ قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ ستائیسویں آئینی ترمیمی بل منظوری کے لیے ایوان میں پیش کریں گے ۔
بل کو فوری منظوری کے لیے ایوان میں لانے کی تحریک بھی وزیرِ قانون پیش کریں گے ایجنڈے کے مطابق سینیٹر انوشہ رحمان پاکستان میڈیکل اینڈ ڈینٹل کونسل ایکٹ میں ترمیمی بل پیش کریں گی جبکہ سینیٹر سرمد علی اسلام آباد میٹرو بس سروس کے قیام سے متعلق بل متعارف کرائیں گے ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:27 ویں آئینی ترمیم: چیف آف ڈیفنس فورسز کا عہدہ آرمی چیف کو دینے کی تجویز
سینیٹر کامران مرتضیٰ پاکستان سائیکولوجیکل کونسل کے قیام کا بل اور جامعات میں مستحق طلبہ کے لیے خصوصی نشستوں سے متعلق بل پر ایوان کو اعتماد میں لیں گےاسلام آباد میں کتابوں پر پلاسٹک کور کے استعمال پر پابندی کا بل سینیٹر شیری رحمان پیش کریں گی جبکہ سینیٹر عبدالقادر پاکستان براڈکاسٹنگ کارپوریشن ایکٹ میں ترمیمی بل پیش کریں گے ۔
سینیٹر ڈاکٹر افنان اللہ خان ورچوئل ایسٹس کے ضابطہ کار سے متعلق بل ایوان میں لائیں گے اور سینیٹر سرمد علی ای سگریٹ کے ضابطہ جاتی بل پر پیشرفت رپورٹ دیں گےاجلاس میں سیکورٹی صورتحال سرمایہ کاری پر ملٹی نیشنل کمپنیوں کے انخلا کے اثرات، سیلاب متاثرین کیلئے امدادی پیکجز اور پاک بحریہ کی خدمات کو خراجِ تحسین پیش کرنے سے متعلق قراردادوں پر بھی غور کیا جائے گا ۔
اس سے پہلے سینیٹ کی مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کا طویل اجلاس ہوا جس میں آئینی ترمیم کی متعدد شقوں کی منظوری دی گئی جبکہ کل اس پر مزید مشاورت کرکے رپورٹ ایوان میں فائل کی جائے گی ۔




