موجودہ دور میں اسمارٹ فونز اور دیگر ڈیجیٹل ڈیوائسز کا زیادہ استعمال ایک عام رجحان بن چکا ہے مگر ماہرین کے مطابق یہ عادت چہرے اور گلے کی جلد پروقت سے قبل جھریوں کا باعث بھی بن رہی ہے، خاص طور پر گردن کے حصے میں ۔
ماہرین طب اس مسئلے کو ’’ٹیک نیک ‘‘ (Tech Neck) کا نام دیتے ہیں یعنی گردن پر جھریاں اور جلد کے لٹکنے کا وہ عمل جو اسمارٹ فونز، کمپیوٹرز یا ٹیبلیٹس کو گھنٹوں تک جھک کر استعمال کرنے سے پیدا ہوتا ہے۔
ٹیک نیک کیوں ہوتا ہے؟
ماہرین کا کہنا ہے کہ گردن کی جلد باڈی کے دیگر حصوں کے مقابلے میں زیادہ نازک اور حساس ہوتی ہے ۔ عمر کے ساتھ اس حصے میں جھریوں اور لکیروں کا بننا قدرتی عمل ہے لیکن اب نوجوانوں اور درمیانی عمر کے افراد میں بھی یہ علامات واضح نظر آ رہی ہیں ۔
گردن کولگا تار آگے جھکانے سے جلد پر پریشر بڑھتا ہے، جس سے جلد لچک کھو دیتی ہے اور جھریاں گہری ہونے لگتی ہیں ۔ اس کے علاوہ سورج کی شعاعوں سے ہونے والا نقصان بھی اس عمل کو تیز کر دیتا ہے ۔
روک تھام کیسے ممکن ہے؟
ماہرین کے مطابق کہ ٹیک نیک سے بچاؤ کیسے ممکن ہے اگر چند سادہ عادات اپنائی جائیں:
صحیح نشست و برخاست:
ڈیوائسز استعمال کرتے وقت اسکرین کو آنکھوں کے سامنے رکھیں اور گردن کو زیادہ دیر تک جھکانے سے گریز کریں ۔
جلد کی حفاظت: سن اسکرین کا استعمال صرف چہرے تک محدود نہ رکھیں بلکہ اسے گلے اور گردن پر بھی لگائیں ۔
نگہداشت اور ورزش: جلد کو موئسچرائز رکھیں اور وقفے وقفے سے گردن کی ہلکی ورزش کریں تاکہ مسلز پر دباؤ کم ہو ۔
اسکرینز کے مزید اثرات:
طبی ماہرین کے مطابق اسمارٹ فونز اور کمپیوٹر اسکرینز کے سامنے زیادہ وقت گزارنے سے نہ صرف گردن بلکہ آنکھوں کے اردگرد بھی جھریاں اور گہری لکیریں بن سکتی ہیں ۔
ڈیوائسز سے خارج ہونے والی نیلی روشنی (Blue Light) جلد کی عمر بڑھانے میں کردار ادا کرتی ہے۔ یہ روشنی نیند کے نظام کو متاثر کرتی ہے، جس سے آنکھوں کے گرد سیاہ حلقے بنتے ہیں اور کولیگن کی مقدار میں کمی آتی ہے — وہی پروٹین جو جلد کو جوان اور لچک دار رکھتا ہے ۔
ماہرین کا مشورہ:
ماہرین نے مشورہ دیا ہے کہ ٹیک نیک سے بچنے کے لیے ٹیکنالوجی کا استعمال کم کریں، درست نشست اختیار کریں اور جلد کی مناسب دیکھ بھال کریں ۔ اگر گردن یا چہرے پر جھریاں یا جلد لٹکنے کے آثار ظاہر ہوں تو ماہرِ امراض جلد سے مشورہ کریں ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:تین ماہ میں 50 کلو وزن کم کریں اور پورشے کار جیتیں




