اعظم تارڑ

27 نومبر کو چیئرمین جوائنٹ چیفس کا عہدہ ختم ہو جائیگا: اعظم نذیر تارڑ

 
“> وفاقی وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا ہے کہ چیف آف  آرمی سٹاف ایک آئینی عہدہ ہے جس کی مدت ملازمت پانچ سال ہے ۔

  سینیٹ اجلاس میں  اظہار خیال کرتے ہوئے اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ مارشل آف ایئر فورس اور مارشل آف نیول فورس کے ٹائٹل متعارف کرانے کی تجویر ہے یہ ٹائٹل دینے کا اختیار وزیراعظم کا نہیں ہو گا بلکہ پارلیمنٹ کا ہو گا ۔
وزیر قانون سینیٹر اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ 27 نومبر کو چیئرمین جوائنٹ چیفس آف اسٹاف کمیٹی کا عہدہ ختم ہو جائے گا۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کہا کہ 27 آئینی ترمیم میں مارشل آف ائیرفورس اور مارشل آف نیول فورس کے ٹائٹل متعارف کرانے کی تجویز ہے اور یہ ٹائٹل دینے کا اختیار وزیراعظم کا نہیں ہوگا بلکہ پارلیمنٹ کا ہوگا۔

تجویز ہے کہ آرمی چیف ، چیف آف ڈیفنس فورسز ہوں گے ۔ ان کا کہنا تھا کہ فیلڈ مارشل کے رینک اور ٹائٹل کو آئینی تحفظ حاصل ہو گا ۔

وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ کا کہنا ہے کہ ستائیسویں آئینی ترمیم کے تحت ججز ٹرانسفر پر ایگزیکٹو کے اختیارات میں کمی کی گئی ہے جبکہ فیلڈ مارشل کا اعزاز تاحیات ہوگا ۔

دوسری طرف اعظم تارڑ نے کہا کہ آئینی ترمیم کا بل سینیٹ میں پیش ہونے کے بعد مشترکہ کمیٹی کے سپرد کیا جائے گا،
حکومت نے اس سلسلے میں پیپلز پارٹی، متحدہ قومی موومنٹ پاکستان اور دیگر اتحادی جماعتوں سے مشاورت مکمل کر لی ہے، چارٹر آف ڈیموکریسی میں آئینی عدالت سے متعلق جو پرانا وعدہ تھا اس پر اتفاق رائے ہو گیا ۔
وزیر قانون نے کہا ہے کہ ججز کے ٹرانسفر کے معاملے پر ایگزیکٹو کے اختیارات میں کمی لانے اور یہ اختیار جوڈیشل کمیشن کے سپرد کرنے کی تجویز دی گئی ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آخری ون ڈے : جنوبی افریقہ کا پاکستان کیخلاف ٹاس جیت کر بیٹنگ کا فیصلہ

انہوں نے بتایا کہ کے پی کے سینیٹ الیکشن تاخیر کا شکار ہوئے تھے، اس قانونی مسئلے کو حل کرنے کے لیے بھی ترمیمی تجاویز شامل کی گئی ہیں تاکہ انتخابات ایک ہی وقت پر یقینی بنائے جا سکیں ۔

اس کے ساتھ بلوچستان اسمبلی کے حلقوں میں اضافے سے متعلق ترمیم بھی زیر غور ہے ۔ اعظم نذیر تارڑ نے مزید کہا ہے کہ مجوزہ ترمیم میں ابہام دور کیے گئے ہیں ۔

اس کے علاوہ ایڈوائزرز کی تعداد بڑھا کر 7 کرنے کی تجویز دی گئی ہے جبکہ آرٹیکل 243 میں بھی ترمیم پیش کی گئی ہے جس کے تحت تقرری کے طریقہ کار میں تبدیلی لائی گئی ہے ۔

1973 کے آئین سے قبل فیلڈ مارشل کا عہدہ موجود تھا جسے ختم کیا گیا ہے، فیلڈ مارشل کا اعزاز تاحیات برقرار رہے گا ۔وزیر قانون نے بتایا کہ آئین کے آرٹیکل 140 اے میں بھی ترمیم کی تجویز شامل ہے  ۔

ایم کیو ایم کے اس آرٹیکل سے متعلق بل کو بھی کمیٹی کے سامنے لایا جائے گا، حکومت اتحادی جماعتوں پر زور دے گی کہ وہ اس ترمیم کی منظوری میں تعاون کریں ۔

وفاقی وزیر نے کہا کہ دو تہائی اکثریت سے منظوری پر ہی ترامیم آئین کا حصہ بنیں گی ۔

Scroll to Top