اسلام آباد : وزیراعظم محمد شہباز شریف کی ورچوئل صدارت میں وفاقی کابینہ کے اجلاس میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دیدی گئی۔ اجلاس میں قومی مالیاتی کمیشن (این ایف سی) میں صوبوں کے شیئر ختم کرنے کا معاملہ شامل نہیں کیا گیا ۔
ذرائع کے مطابق کابینہ اجلاس اسلام آباد میں ہوا جبکہ وزیراعظم باکو سے ویڈیو لنک کے ذریعے اجلاس کی صدارت کر رہے تھے ۔ وزیر قانون اعظم نذیر تارڑ نے کابینہ کو ترمیم پر بریفنگ دی اور مسودہ شق وار منظوری کے لیے پیش کیا گیا ۔
کابینہ کی منظوری کے بعد آئینی ترمیم سینیٹ میں پیش کی جائے گی تاکہ حتمی منظوری دی جا سکے ۔ وزیر قانون نے میڈیا سے گفتگوکرتے ہوئے بتایا کہ ترمیم میثاق جمہوریت کے مطابق آئین کے آرٹیکل 243 میں تبدیلی سے متعلق ہے اور اب پارلیمنٹ اس پر بحث کے بعد جلد حتمی فیصلہ کرے گی ۔
اہم نکات:
ججز کے تبادلے کا عمل جوڈیشل کمیشن کے سپرد ہوگا اور متعلقہ ہائی کورٹ کے چیف جسٹس بھی اس میں شامل ہوں گے ۔
سینیٹ انتخابات کے حوالے سے اب تجویز ہے کہ انتخابات ملک بھر میں ایک ہی وقت میں کرائے جائیں تاکہ کسی قسم کے تعطل کا سامنا نہ ہو ۔
غیر منتخب عہدے داروں جیسے ایڈوائزرز اور معاون خصوصی کی تعداد بڑھانے کی تجویز دی گئی ہے ۔
دفاعی امور میں جدید دور کے تقاضوں کے پیش نظر فیلڈ مارشل کے عہدے اور اعلیٰ فوجی عہدوں کی وضاحت شامل کی گئی ہے ۔
ایم کیو ایم پاکستان نے بلدیاتی حکومتوں کے اختیارات سے متعلق بل (آرٹیکل 140 اے) سینیٹ میں پیش کیا تھا ، جس پر مخالف جماعتوں کے اتفاق رائے سے بحث ہوگی ۔
بلوچستان عوامی پارٹی کے رہنما خالد مگسی کے مطالبے پر بلوچستان میں انتخابی حلقوں کی تعداد بڑھانے پر بھی غور کیا جائے گا ۔
وزیر قانون نے مزید بتایا کہ این ایف سی کے معاملے پر حتمی فیصلہ بعد میں کیا جائے گا کیونکہ اس پر سیاسی اتفاق رائے ابھی نہیں ہوا ہے ۔
سپریم کورٹ میں چیلنج:
گزشتہ روز مجوزہ 27ویں آئینی ترمیم کو سپریم کورٹ میں چیلنج کر دیا گیا تھا۔ درخواست بیرسٹر علی طاہر کی طرف سے دائر کی گئی ہے جس میں وفاقِ پاکستان ، سینیٹ کے چیئرمین اور قومی اسمبلی کے اسپیکر کو فریق نامزد کیا گیا ہے ۔
درخواست میں موقف اختیار کیا گیا ہے کہ ترمیم 18ویں آئینی ترمیم کے تحت منتقل شدہ اختیارات کو واپس لینے اورعدلیہ کے ڈھانچے میں تبدیلی کی کوشش ہو سکتی ہے ۔
درخواست گزار نے خدشہ ظاہر کیا کہ ترمیم کے ذریعے علیحدہ آئینی عدالتوں کے قیام اور سپریم کورٹ و ہائیکورٹس کے دائرہ اختیار کو محدود کرنے کی کوشش ہو سکتی ہے جو عدلیہ کی آزادی اور شہریوں کے انصاف تک رسائی کے آئینی حق کو متاثر کرے گی ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:سری لنکا کاپاکستان کیخلاف ون ڈے اور سہ ملکی ٹی 20 سیریز کیلئے سکواڈ کا اعلان




