وفاقی کابینہ

27 ویں ترمیم کی منظوری کیلئے آج ہونیوالا وفاقی کابینہ کاا جلاس غیر معینہ مدت کیلئے مؤخر

اسلام آباد: وزیراعظم محمد شہباز شریف کی زیر صدارت آج ہونے والا وفاقی کابینہ کا اجلاس جس میں 27ویں آئینی ترمیم کی منظوری دی جانی تھی، وزیراعظم کی مصروفیات کے باعث اجلاس ملتوی کر دیا گیا ۔

اجلاس آج طلب کیا گیا تھا، تاہم حکومتی ذرائع کے مطابق وزیراعظم کے مصروف شیڈول کی وجہ سے اسے غیر معینہ مدت کے لیے مؤخر کر دیا گیا ہے ۔

ذرائع کے مطابق وفاقی حکومت نے 27ویں آئینی ترمیم کا ابتدائی خاکہ تیار کرلیا ہے، جس میں مختلف آئینی اور انتظامی امور سے متعلق تجاویز شامل ہیں ۔

اس ترمیم کے ذریعے بعض وفاقی اختیارات کی ازسرِ نو تقسیم ، بلدیاتی نظام کی بہتری اور صوبائی خودمختاری سے متعلق نکات کو شامل کیا گیا ہے ۔ وزیراعظم شہباز شریف نے اس حوالے سے اتحادی جماعتوں کو اعتماد میں لینے کا عمل مکمل کرلیا ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:آئین کے آرٹیکل 243 میں مجوزہ ترمیم کی حمایت کرتے ہیں، بلاول بھٹو زرداری کا اعلان

حکومتی ذرائع کا کہنا ہے کہ وزیراعظم نے ایم کیو ایم پاکستان کے وفد سے ملاقات میں انہیں یقین دہانی کرائی ہے کہ ان کے بلدیاتی نظام سے متعلق مطالبات کو 27ویں آئینی ترمیم کا حصہ بنایا جائے گا ۔

اس یقین دہانی کے بعد متحدہ نے ترمیم کی حمایت کا فیصلہ کر لیا ہے ۔ ذرائع کا کہنا ہے کہ ایم کیو ایم کا مؤقف ہے کہ بلدیاتی اداروں کو بااختیار بنائے بغیر عوامی مسائل حل نہیں ہوسکتے ، اس لیے آئینی تحفظ وقت کی اہم ترین ضرورت ہے ۔

دوسری جانب پاکستان پیپلز پارٹی نے 27ویں آئینی ترمیم کے مجوزہ نکات پر اختلاف کا اظہار کیا ہے ۔ پارٹی ذرائع کے مطابق پی پی پی نے ترمیم میں شامل تمام شقوں کو مسترد کر دیا ہے، سوائے آرٹیکل 243 میں مجوزہ تبدیلی کے ۔

پارٹی کا مزید کہنا ہے کہ کسی بھی آئینی ترمیم کو منظور کرنے سے پہلے تمام فریقین کے تحفظات دور کرنا ناگزیرہیں تاکہ قومی اتفاق رائے پیدا ہو سکے ۔

Scroll to Top