اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) سپریم کورٹ آف پاکستان نے عدالت کے اندر ملازمین سے ملاقاتوں پر پابندی عائد کردی ہے۔
اس سلسلے میں جاری آفس آرڈر کے مطابق دفتری اوقات کے دوران ملازمین سے نجی ملاقاتوں کے باعث کام کی رفتار متاثر ہو رہی تھی، جس کے پیش نظر یہ فیصلہ کیا گیا۔
آفس آرڈر میں واضح کیا گیا ہے کہ دفتری اوقات میں کوئی بھی ملازم کسی پرائیویٹ شہری سے ملاقات نہیں کر سکے گا۔
تاہم اگر کسی کو ملاقات کی اشد ضرورت ہو تو متعلقہ ملازم اپنے سینئر افسر سے اجازت لینے کے بعد سہولت مرکز میں صرف 5 منٹ کے لیے ملاقات کر سکے گا۔
ذرائع کے مطابق اس فیصلے کا مقصد دفتری نظم و ضبط کو برقرار رکھنا اور سپریم کورٹ کے انتظامی امور کو مزید موثر بنانا ہے
عدالت انتظامیہ نے تمام ملازمین کو ہدایت کی ہے کہ وہ ہدایات پر سختی سے عملدرآمد یقینی بنائیں۔
تفصیلات کے مطابق سپریم کورٹ آف پاکستان نے سپریم کورٹ کے اندر ملازمین سے ملاقاتوں پر پابندی عائد کردی۔
اس حوالے سے جاری آفس آرڈر کے مطابق دفتری اوقات میں ملازمین سے ملاقات کی وجہ سے کام متاثر ہوتا ہے، دفتری اوقات میں ملازمین کسی پرائیویٹ شہری سے ملاقات نہیں کرسکیں گے۔
آفس آرڈر میں مزید کہا گیا ہے کہ ملاقات ضروری ہو تو ملازمین سینئر سے اجازت لے کر سہولت مرکز میں 5 منٹ ملاقات کرسکیں گے۔
مزید یہ بھی پڑھیں:آن لائن لاکھوں روپے کا فراڈ، ہیکرز نے سینیٹرز کو چکرا کر رکھ دیا




