اسلام آباد: (کشمیر ڈیجیٹل) قومی بچت اسکیموں میں سرمایہ کاری کرنے والوں کے لیے اہم خبر سامنے آئی ہے، حکومت نے مختلف اسکیموں پر منافع کی شرح میں رد و بدل کر دیا ہے۔ نئی شرح منافع کا اطلاق 4 نومبر سے ہو چکا ہے۔ بعض اسکیموں کی شرح میں اضافہ کیا گیا ہے جبکہ چند اسکیموں پر منافع میں کمی بھی سامنے آئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق ریگولر انکم سرٹیفکیٹ پر سالانہ شرح منافع 10.68 فیصد سے بڑھا کر 10.92 فیصد کر دی گئی ہے۔ اسی طرح اسپیشل سیونگز سرٹیفکیٹ پر شرح منافع 10.40 فیصد سے بڑھا کر 10.60 فیصد سالانہ مقرر کی گئی ہے۔ حکام کے مطابق یہ اضافہ بچت کنندگان کو بہتر ریٹرن فراہم کرنے اور سرمایہ کاری کے رجحان کو فروغ دینے کے لیے کیا گیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: بینک اکاؤنٹ کھولنے کے خواہشمند پاکستانیوں کیلئے اہم خبر آ گئی
اس کے برعکس بہبود سیونگز سرٹیفکیٹ، پنشنرز بینفیٹ اکاؤنٹ اور شہداء فیملی ویلفیئر اسکیم پر منافع کی شرح میں کمی کی گئی ہے۔ اب ان اسکیموں پر منافع 12.96 فیصد سے کم کر کے 12.72 فیصد سالانہ کر دیا گیا ہے۔ ماہرین کا کہنا ہے کہ شرح منافع میں کمی کا مقصد معاشی توازن برقرار رکھنا اور حکومتی مالیاتی اخراجات کو کنٹرول میں رکھنا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سلطان برونائی،جنرل ساحر شمشاد مرزا کی اہم ملاقات، دفاعی تعاون مزید بڑھانے پر اتفاق
علاوہ ازیں ڈیفنس سیونگز سرٹیفکیٹ پر بھی منافع کی شرح میں کمی کر دی گئی ہے۔ دوسری جانب سروا اسلامک ٹرم اکاؤنٹ اور سروا اسلامک سیونگز اکاؤنٹس پر شرح منافع بڑھا دی گئی ہے۔ تین سالہ اسلامک اکاؤنٹ پر شرح منافع 9.94 فیصد سے بڑھا کر 10.30 فیصد اور پانچ سالہ اکاؤنٹ پر 10.56 فیصد کر دی گئی ہے۔
سیونگز اکاؤنٹ پر منافع کی شرح 9.50 فیصد برقرار رکھی گئی ہے اور اس میں کوئی تبدیلی نہیں کی گئی۔ ماہرین کے مطابق نئی شرح منافع سے سرمایہ کاروں کو اپنی مالی منصوبہ بندی بہتر بنانے کا موقع ملے گا اور بچت کے رجحان میں اضافہ ممکن ہے۔




