مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل )ریاست جموں کشمیر کے عوام آج 6 نومبر یومِ شہدائے جموں عقیدت و احترام کے ساتھ منا رہے ہیں۔ اس موقع پر مختلف اضلاع میں ریلیاں، دعائیہ تقریبات اور اجتماعات منعقد کیے گئے جن میں شہریوں اور مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد کی بڑی تعداد نے شرکت کی۔
مظفرآباد: مرکزی ریلی اور تقاریب:
دارالحکومت مظفرآباد میں پاسبانِ حریت جموں و کشمیر کے زیرِ اہتمام شہدائے جموں کو خراجِ عقیدت پیش کرنے کے لیے ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی میں بڑی تعداد میں شہریوں نے شرکت کی۔ شہریوں نے بینرز اٹھا رکھے تھے جن پر شہدائے جموں کو خراجِ تحسین کے جملے درج تھے۔ شہریوں نے قومی اور ریاستی پرچم بھی اٹھا رکھیے تھے۔ کشمیری شہریوں نے “سلام ہو سلام ہو شہدائے جموں کو سلام ہو”، “خون رنگ لائے گا انقلاب آئے گا”، “شہدائے جموں زندہ باد زندہ باد” جیسے نعرے لگا رکھے تھے۔
یہ بھی پڑھیں: کشمیریوں کے حق خودارادیت کی غیر متزلزل حمایت کا اعادہ کرتے ہیں، صدر آصف زرداری
ریلی کی قیادت چیئرمین پاسبانِ حریت عزیر احمد غزالی، حریت راہنما مشتاق احمد بٹ، مہاجرین نمائندگان راجہ محمد عارف خان، چوہدری محمد مشتاق، اقبال یاسین اعوان، عثمان علی ہاشم، محمد یونس میر، بلال احمد فاروقی اور دیگر راہنماؤں نے کی۔ عزیر احمد غزالی نے کہا: “کشمیری عوام آج شھدائے جموں کو خراجِ عقیدت پیش کررہے ہیں۔” انہوں نے مزید کہا: “شھدائے جموں کی عظیم قربانیاں ہمیشہ یاد رکھی جائیں گی۔” عزیر احمد غزالی نے کہا: “سکھ جتھوں ، ڈوگرہ فوجیوں ، ہندو بلوائیوں نے 6 نومبر 1947 کو مظلوم مسلمانوں کا قتل عام کیا۔” اور “6 نومبر 1947 کو اڑھائی لاکھ سے زائد مظلوم مسلمان شہید کیئے گئے۔” انہوں نے کہا: “ہندو بلوائیوں نے جموں سے لاکھوں مسلمانوں کو جبراً ہجرت پر مجبور کیا۔” اور “بھارت گزشتہ اٹھتر برسوں سے جموں کشمیر میں مسلمانوں کا قتل عام کررہے ہے۔”
باغ: احتجاجی ریلی اور قائدین کا پیغام:
باغ میں یومِ شہدائے جموں کے موقع پر احتجاجی ریلی کا انعقاد کیا گیا۔ ریلی کی قیادت حریت کانفرنس کے رہنماؤں سید یوسف نسیم شاہ، زاہد سخی اور اسسٹنٹ کمشنر باغ سید کلیم عباس نے کی۔ ریلی کا آغاز گیاری چوک سے ہوا اور بازار سے ہوتی ہوئی حیدری چوک میں پہنچی۔ شرکاء کے نعروں میں “آزادی، ہے حق ہمارا آزادی، چھین کے لیں” اور فلک شگاف نعروں سے باغ کی فضاء گونج اٹھی۔ حریت رہنماؤں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق کشمیریوں کا فیصلہ عالمی دنیا کی ذمہ داری ہے اور “ہم شہداے جموں کی قربانیوں کو رائیگاں نہیں جانے دیں گے”۔ زاہد سخی نے کہا: “06 نومبر کو انسانیت کا قتل کیا گیا” اور “ہندوستان جان لے شہادتیں ہمارا عزم اور جزبہ ہے”۔
یہ بھی پڑھیں: شہداء کی قربانیاں کبھی فراموش نہیں کی جا سکتیں، سردار عبدالقیوم نیازی کا پیغام
راولاکوٹ، جہلم ویلی، نیلم، بھمبر اور وادی لیپہ: دعائیہ تقریبات اور پروگرام:
راولاکوٹ میں ڈسٹرکٹ کمپلیکس اور تاریخی مقام دارالجہاد یادگارِ شہداء پر دعائیہ تقریب اور پھول چڑھانے کی تقاریب ہوئیں۔ لائن آف کنٹرول کے دونوں اطراف آج کشمیری یوم شہدائے جموں منارہے ہیں۔ جہلم ویلی میں ضلعی ہیڈکوارٹر پر دعائیہ تقریب کا باقاعدہ آغاز تلاوتِ قرآنِ پاک اور نعت خوانی سے ہوا؛ مقررین نے کہا کہ 6 نومبر یومِ شہداء کے موقع پر ہم تمام شہداء اور غازیوں کو سلام عقیدت پیش کرتے ہیں۔ وادیِ نیلم، وادی لیپہ، اور بھمبر میں بھی دعائیہ اجتماعات، ریلیاں اور تعلیمی اداروں میں پروقار تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ کشمیر گرلز کیڈٹ کالج مظفرآباد میں بھی شہداء کی یاد میں پروگرام ہوا، جہاں مقررین نے نئی نسل کو قربانیوں سے روشناس کرانے کی ضرورت پر زور دیا۔
تقاریب کے اختتام پر شہداء کے درجات کی بلندی، وطنِ عزیز کی سلامتی اور مقبوضہ کشمیر کے مظلوم عوام کی آزادی کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔ شرکاء نے عہد کیا کہ شہداء کے مشن کو زندہ رکھا جائے گا اور تحریک آزادی جاری رہے گی۔




