سردیاں پھر آگئی ہیں ، مقبوضہ کشمیر میں نقطہ انجماد والی سردی معمول کی بات ہے،دسمبر میں درجہ حرارت منفی 10 تا 15 تک رہتا ہے ۔
کشمیری عوام کیسے گھروں بازاروں اور کام والی جگہوں میں منفی درجہ حرارت کا مقابلہ کرتے ہیں اور اپنے جسم کو گرم رکھتے ہیں
کشمیر میں سردیوں کی آمد کے ساتھ ہی گرماہٹ دینے والے کانگڑی کا خیال آتا ہے۔ کانگڑی ایک طرح کی انگھیٹی ہے جسے کوئی بھی شخص ہر جگہ اپنے ساتھ رکھ سکتا ہے اس کا استعمال دورقدیم سے کیا جاتا ہے،وقت کے ساتھ ساتھ کانگڑی کی بناوٹ میں تبدیلی آئی ہے۔
کشمیری کانگڑی کے لئے استعمال ہونے والے بید کی لچکدار ٹہنیوں اور دیگر اقسام کی ٹہنیوں کو جمع کرنے کیا جاتا ہے۔
کانگڑی بنانے والے افراد کو کشمیری زبان میں کانل کہا جاتا اور یہ طبقہ کانگڑی اور ٹہنیوں سے دیگر بننے والی چیزوں کو تیار کرتے ہیں۔
یہ بھی پڑھیں: کیل نیلم میں منفرد ہنڈی کرافٹ شاپ، ثقافت اور ہنر کا امتزاج
اس کانگڑی سے کئی لوگوں کا روزگار وابستہ ہے حالانکہ اب کانگڑی بنانے والے لوگ اس کام کو چھوڑ کر روزگار کے دیگر وسائل تلاش کر رہے ہیں اور اس طرح سے کانگڑی بنانے کا ہنر کچھ ہی افراد تک محدود رہ گیا ہے۔
اس طرح سے کانگڑی بنانے کا ہنر اپنی ساخت کھو رہا ہے اور آنے والے وقت میں شاید ہی کوئی ایسا فرد ہوگا جو اس ہنر کو جانتا ہوگا۔
کشمیر میں کانگڑیوں کی کئی اقسام ہیں جن میں چرار شریف، بانڈی پورہ، اسلام آباد، پلوامہ میں تیار ہونے والی کانگڑیاں قابل ذکر ہے۔
قدیم زمانے میں کشمیر کی کانگڑی صرف مٹی کا برتن ہوا کرتی تھی۔ وقت گزرنے کے ساتھ کچھ کاریگروں نے بید کی تیلیوں کا استعمال کر کے اس سے دیسی ہیٹر بنادیا۔
مرد عام طور پر کانگڑی بنانے کا کام کرتے ہیں اور بید چھیلنے کا کام عورتیں کرتی ہیں۔ کانگڑی بنانا ویسے تو ایک موسمی پیشہ ہے، لیکن یہ اِن کاریگروں کو سال بھر کا معاش فراہم کرتا ہے۔
کانگڑی کشمیر کی سخت سردیوں میں لوگوں کو سکون دینے والی گرمی فراہم کرتی ہےلیکن ایک ایسا فن جس سے لوگ نقطہ انجماد والی سردیوں سے محفوظ رہتے ہیں آج اپنی آخری سانسیں گن رہا ہے۔
نوجوانوں بھی اس کام کے ساتھ منسلک نہیں ہورہی ہے کیونکہ اس کی مانگ میں کمی آئے ہے جبکہ اس کو تیار کرنے کے لئے استعمال ہونے والے چیزیں مہنگی ہوگئی ہے۔




