استنبول:غزہ کی صورتحال پر استنبول میں ترکیے، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، اردن، پاکستان اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ کے اجلاس کے بعد مشترکہ اعلامیہ جاری کردیا گیا۔
مشترکہ اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ غزہ کا نظم و نسق فلسطینیوں کے ہاتھ میں دیا جائے۔
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ اسرائیل فوری طور پر جنگ بندی کی مکمل پاسداری کرے، انسانی امداد کی راہ میں حائل تمام رکاوٹیں ختم کی جائیں۔
اجلاس کے اعلامیے میں مطالبہ کیا گیا ہے کہ کم از کم 600 امدادی ٹرک اور 50 ایندھن بردار گاڑیاں غزہ میں بلا تعطل داخل کی جائیں۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ فلسطینی عوام کے حقِ خود ارادیت اور قومی نمائندگی کو تسلیم کیے بغیر خطے میں پائیدار امن ممکن نہیں، غزہ کا سیاسی اور انتظامی نظام بیرونی قوت کے بجائے مقامی فلسطینی اتھارٹی کے پاس ہونا چاہیے۔
یہ بھی پڑھیں:غزہ امن اجلاس میں ٹرمپ اور انڈونیشین صدرکی غیر متوقع گفتگو مائیک پر ریکارڈ
مشترکہ اعلامیے میں کہا گیا کہ غزہ میں ایک غیر جانبدار فورس تشکیل دی جائے جو امن کی نگرانی کرے اور انسانی امداد کے تحفظ کو یقینی بنائے۔
اعلامیے میں کہا گیا کہ اسرائیلی فوج کی جانب سے جنگ بندی کے بعد بھی حملے جاری ہیں، جنگ بندی کے بعد اسرائیلی حملوں میں اب تک تقریباً 250 فلسطینی شہید ہو چکے ہیں۔
خیال رہے کہ پیر کو استنبول میں غزہ کی تعمیرنو کے منصوبے پر مشاورت کے لیے ترکیے، سعودی عرب، قطر، متحدہ عرب امارات، اردن، پاکستان اور انڈونیشیا کے وزرائے خارجہ کا اجلاس ہوا۔
اجلاس کے بعد پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے ترک وزیر خارجہ حاقان فیدان کا کہنا تھا کہ غزہ میں بین الاقوامی فورسز کی تعیناتی کے لیے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے مینڈیٹ پر کام کر رہے ہیں اور فریم ورک مکمل ہونے کے بعد ہی افواج کی تعیناتی پر فیصلہ کیا جائےگا۔
حاقان فیدان نے مزید بتایا کہ تمام 7 ممالک اس منصوبے کی حمایت کرتے ہیں جس کے تحت فلسطینی خود غزہ کی سکیورٹی اور حکمرانی کا کنٹرول سنبھالیں گے۔
انہوں نے بتایا کہ ہفتے کے اختتام پر انہوں نے حماس کے اعلیٰ مذاکرات کار خلیل الحیہ کی قیادت میں ایک وفد سے ملاقات کی تھی اور حماس نے اس موقع پر کہا تھا کہ وہ غزہ کا کنٹرول فلسطینیوں کی ایک مشترکہ کمیٹی کے حوالے کرنے کے لیے تیار ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹرمپ امن منصوبہ میں ہماری ساری تجاویز شامل نہیں ہیں، اسحاق ڈار
ترک وزیرِ خارجہ نے امید ظاہر کی کہ حماس اور مغربی کنارے کی فلسطینی اتھارٹی کے درمیان مصالحتی کوششیں جلد کامیاب ہوں گی، کیونکہ بین الفلسطينی اتحاد سے فلسطین کی بین الاقوامی سطح پر نمائندگی مزید مضبوط ہوگی۔
حاقان فیدان نے کہا کہ بین الاقوامی استحکام فورس (آئی ایس ایف )، جو ٹرمپ کے منصوبے کے تحت غزہ میں جنگ بندی کی نگرانی کرے گی، کے لیے ضروری ہے کہ اس کا اختیار اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قرارداد کے ذریعے طے کیا جائے تاکہ اسے قانونی جواز حاصل ہو۔
انہوں نے بتایا کہ واشنگٹن اس وقت عرب اور بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ مل کر اس فورس کی تشکیل پر مشاورت کر رہا ہے، اور ترکیہ اس میں کردار ادا کرنے کا خواہاں ہے، اگرچہ اسرائیل اس کی سخت مخالفت کر رہا ہے۔




