واپڈاکی سروے ٹیم میرپور پہنچ گئی، متاثرین سے ملاقات، احتجاجی کال موخر

میرپور:منگلا ڈیم میں پانی کی سطح بلند ہونے کے باعث زیر زمین ہونے والی تبدیلیوں کے نتیجے میں ڈیم کنارے آباد کاکڑہ پوٹھہ بینسی کے گاؤں کے متعدد مکانات زمین بوس ہونے کے نقصانات کے سروے کیلئے جی ایم واپڈا منگلا فخر جہاں نے اپنی ٹیم اور ضلعی انتظامیہ کے افسران نے موقع پر جا کر معائنہ کیا ۔

جی ایم واپڈا منگلا فخر جہاں نے زمین بوس ہونے والے مکانوں کے نقصانات کا جائزہ لیا اور متاثرہ افراد کے بڑے اجتماع میں شرکت کی اور ان کے سوالوں کے جوابات دیئے۔

تفصیلات کے مطابق گزشتہ روز پوٹھہ کاکڑہ پوٹھہ بینسی میں جی ایم واپڈا فخر جہاں اپنی ٹیم اور ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر جنرل میرپور راجہ عمر طارق خان نے اپنے سٹاف کے ساتھ متاثرہ سائٹ کا تفصیلی معائنہ کیا، مقامی لوگوں اور متاثرین نے انہیں تفصیلات سے آگاہ کیا۔

یہ بھی پڑھیں: منگلا ڈیم میں پانی کی سطح بلند ہونے پرپوٹھہ بینسی کے27مکان ناقابل رہائش قرار

بعد ازاں معززین علاقہ، مقامی لوگوں اور متاثرین کی بڑی تعداد نے ان کے ساتھ ایک بڑی طویل نشست کی جس میں عوام علاقہ نے واپڈا کی طرف سے سست روی پر اپنے بھرپور تحفظات کا اظہار کیا۔

واپڈا حکام اور ضلعی انتظامیہ کی طرف سے اس معاملے کو ہنگامی بنیادوں پر نمٹانے کی یقین دہانی کرائی گئی جس کے باعث احتجاج کی کال دو ہفتوں کیلئے موخر کردی گئی۔

واپڈا حکام نے اس بات کی یقین دہانی کرائی کہ متاثرین کے ساتھ زیادتی نہیں ہوگی اور انکے نقصان کا ہر ممکن ازالہ کیا جائیگا۔

یاد رہے کہ گزشتہ دنوں منگلا ڈیم کی سطح بلند ہونے پر پوٹھہ بینسی میں کئی مکان زمین میں دھنس گئے جبکہ کئی مکانوں میں دراڑیں پڑ گئی تھیں جس پر متاثرین سراپا احتجاج ہیں۔

کمشنر میرپور نے بھی معاملے پر کمیٹی قائم کی تھی لیکن پیشرفت نہیں ہوسکی جس پر متاثرین تشویش میں مبتلا تھی۔

 

Scroll to Top