استنبول میں ہونے والی سالانہ میراتھون میں پاکستانی ایتھلیٹس نے شاندار کارکردی کا مظاہرہ کیا ہے۔ یہ دنیا کی واحد میراتھون ہے جو ایشیا اور یورپ دونوں براعظموں کو جوڑتی ہے۔
پاکستان کے 12 ایتھلیٹس نے 42.195 کلومیٹر کا مکمل فاصلہ طے کیا، جن میں سب سے بہتر کارکردگی مباریز بن رافع کی رہی جو 3 گھنٹے 21 منٹ 30 سیکنڈ کے وقت کے ساتھ سب سے آگے رہے۔
ان کے بعد مجتبیٰ احسن نے 3 گھنٹے 23 منٹ میں فاصلہ مکمل کیاجبکہ استنبول میں مقیم اسماعیل خان نے 4 گھنٹے 3 منٹ میں تیسرے نمبر پر رہتے ہوئے پاکستان کی نمائندگی کی۔
گولڈ کیٹیگری میں پاکستان کے امجد علی نے میراتھون کو 2 گھنٹے 49 منٹ اور 29 سیکنڈ میں مکمل کرتے ہوئے اسنتبول میراتھون کے تیز ترین پاکستانی رنر کا اعزاز حاصل کیا اور مجموعی طور پر 47 ویں پوزیشن پر رہے۔
یہ بھی پڑھیں: شکاگو میراتھون 2025: پاکستانی رنرز کی شاندار کارکردگی
نجی ٹی وی کے ڈپٹی اسپورٹس ایڈیٹر فہزان لکھانی نے بھی اپنی پہلی میراتھون میں شرکت کی اور 5 گھنٹے 13 منٹ میں پورا فاصلہ طے کیا۔
خواتین میں سحر علی جنجوعہ سب سے آگے رہیں، جنہوں نے 4 گھنٹے 22 منٹ میں ریس مکمل کی، جبکہ ہینا ملک نے 4 گھنٹے 49 منٹ میں فاصلہ طے کرتے ہوئے دوسرا نمبر حاصل کیا۔
دیگر پاکستانی شرکا میں عمر رشید، زین احمد، کاشف رضا، مہر وش حنیف، صدف سعد اور حازق خالد شامل تھے۔
ایتھوپیا کے دیجینا دیبیلا نے 2:11:40 کی ٹائمنگ کے ساتھ میراتھون میں پہلی پوزیشن حاصل کی۔
رنرز نے سبز رنگ کی شرٹس پہن کر پاکستان کی نمائندگی کی جبکہ بوسفرس برج عبور کرتے وقت شائقین نے بھرپور انداز میں ان کا استقبال کیا۔




