خواجہ آصف

وزیر دفاع خواجہ آصف نے طورخم بارڈر کھولنے کی اصل وجہ بتا دی

اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل) وزیر دفاع خواجہ محمد آصف نے کہا ہے کہ طورخم سرحد کو صرف غیرقانونی مقیم افغانیوں کی بے دخلی کے لیے کھولا گیا ہے یہاں سے کسی قسم کی تجارت نہیں ہوگی ۔

میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ غیر قانونی مقیم افغان باشندوں کی وطن واپسی کا سلسلہ جاری رہنا چاہیے تاکہ وہ آئندہ دوبارہ اس انداز میں پاکستان میں داخل ہو کر مستقل نہ رہ سکیں جس طرح گزشتہ چار دہائیوں میں ہوتا رہا ہے ۔

انہوں نے بتایا کہ اس وقت افغانستان کے ساتھ تمام امور، بشمول ویزا پراسیسنگ، معطل ہیں اور جب تک بات چیت مکمل
نہیں ہوتی اقدامات اسی طرح برقرار رہیں گے ۔

خواجہ آصف نے بتایا کہ غیر قانونی افغان باشندوں کا معاملہ پہلی بار عالمی سطح پر اجاگر ہوا ہے اور ترکیہ و قطر اس ضمن میں ثالثی کا کردار ادا کر رہے ہیں ۔ ان کے مطابق ماضی میں کابل انتظامیہ اس مسئلے کی موجودگی تسلیم نہیں کرتی تھی مگر اب افغان حکومت کے سامنے یہ ذمہ داری بین الاقوامی طور پر اجاگر ہو چکی ہے ۔

مزید یہ بھی پڑھیں:افغان ترجمان کا بیان گمراہ کن، بھارتی سرپرستی سے آگاہ ہیں،خواجہ آصف

انہوں نے کہا کہ اگر افغان سرزمین سے کوئی غیر قانونی سرگرمی سامنے آتی ہے تو اس کے نتائج افغانستان کو بھگتنے پڑیں گے  کیونکہ پاکستان کی طرف سے کسی خلاف ورزی کا عمل نہیں ہو رہا ، بلکہ فائر بندی کی خلاف ورزیاں افغانستان کی جانب سے رپورٹ ہو رہی ہیں ۔

انہوں نے کہا کہ خیبرپختونخوا صوبہ دہشت گردی سے سب سے زیادہ متاثر ہے اور ملک کی تمام سیاسی و ریاستی قوتیں چاہتی ہیں کہ افغان مسئلے کا جلد اور پائیدار حل سامنے آئے ۔

انہوں نے زور دیا کہ اس مسئلے کا واحد راستہ یہ ہے کہ افغانستان اپنی سرزمین سے دہشت گردی کا مکمل خاتمہ یقینی بنائے ۔

وزیر دفاع نے مزید کہا کہ بھارت کی پاکستان کے خلاف پراکسی سرگرمیوں کے شواہد سابق افغان حکومت کے دور سے موجود ہیں ۔

ان کے مطابق بھارت کی کوشش ہے کہ پاکستان مشرقی اور مغربی محاذوں پر مصروف رہے، تاہم مشرقی سرحد پر بھارت کو ناکامی کا سامنا کرنا پڑا ہے اور بھارتی قیادت خاموش ہو چکی ہے ۔

انہوں نے امید ظاہر کی کہ ترکیہ اور قطر کی ثالثی سے مثبت پیش رفت سامنے آئے گی ۔

Scroll to Top