جہلم ویلی (کشمیر ڈیجیٹل)پیپروں کی ای مارکنگ، میرپور بورڈ انتظامیہ نے ٹاپ کرنیوالے طالبعلم کی جان لے لی
،جہلم ویلی کے ایک گاؤں میں فرسٹ ایئر کے طالبعلم سید حسیب صابر نے صرف ایک کتاب رہ جانے کی وجہ سے خودکشی کر لی۔
وہ 2024 میں میٹرک میں ٹاپ کرنے والا ہونہار طالب علم تھا۔ اس افسوسناک واقعے نے میرپور بورڈ کے امتحانی نظام پر کئی سوالات اٹھا دیئے ۔
تحقیقات کے مطابق:نتائج میں اڑھائی ماہ کی غیر معمولی تاخیر ہوئی، جس کی کوئی وضاحت نہیں دی گئی۔
میرپور بورڈ نے ای مارکنگ کا نیا نظام بغیر تیاری اور اطلاع کے نافذ کیا، جس سے ہزاروں طلبہ متاثر ہوئے۔
پیپر آؤٹ آف سلیبس دیا گیا، جس نے محنتی طلبہ کو بھی مایوس کر دیا۔بورڈ کے چیئرمین کو سیاسی تعلقات کی بنیاد پر توسیع دی گئی، کارکردگی کی بنیاد پر نہیں۔
فزکس کے مضمون میں زیادہ تر طلبہ کو 45 نمبر زدیئے گئے جس سے مارکنگ سسٹم کی ناکامی ظاہر ہوتی ہے۔
یہ واقعہ صرف ایک طالب علم کی نہیں بلکہ پورے تعلیمی نظام کی ناکامی کی علامت ہے۔رپورٹ یہ سوال چھوڑتی ہے کہ کیا کوئی ان ناانصافیوں کا نوٹس لے گا؟
اور کیا اس قوم کا تعلیمی نظام کبھی انصاف اور شفافیت پر مبنی بن پائے گا؟
مزید یہ بھی پڑھیں:میرپور بورڈ کی نااہلی، پیپروں کی پہلی بار ای چیکنگ ،طلباءکا مستقبل مخدوش




