خیبر: ضلع خیبر میں واقع طورخم سرحدی گزرگاہ کو 20 روز بعد افغان شہریوں کی واپسی کے لیے آج (ہفتہ) سے دوبارہ کھول دیا گیا ہے۔ سرحدی حکام کے مطابق افغان مہاجرین کی واپسی کا عمل صبح سے شروع ہو جائے گا۔
کسٹم حکام نے بتایا کہ انہیں بالائی حکام کی جانب سے زبانی ہدایت موصول ہوئی ہے کہ پھنسے ہوئے افغان خاندانوں کی واپسی کے لیے انتظامات مکمل کیے جائیں۔ اس مقصد کے لیے امیگریشن اور کسٹم کے تمام عملے کو صبح سات بجے اپنی ڈیوٹیوں پر موجود رہنے کی ہدایت جاری کی گئی ہے۔ تاہم سرحدی حکام کے مطابق اس فیصلے کے باضابطہ تحریری احکامات تاحال جاری نہیں کیے گئے۔
ڈپٹی کمشنر خیبر بلال شاہد راؤ کے مطابق افغان شہریوں کی واپسی کے انتظامات مکمل کر لیے گئے ہیں تاکہ سرحد پر رش کے دوران کسی قسم کی بدانتظامی نہ ہو۔ ان کا کہنا تھا کہ طورخم بارڈر صرف افغان شہریوں کی واپسی کے لیے کھولا گیا ہے، جب کہ دوطرفہ تجارت کے لیے گزرگاہ بدستور بند رہے گی۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پاک افغان کشیدگی کے باعث 20 اکتوبر سے طورخم سرحد ہر قسم کی آمدورفت کے لیے بند تھی۔ اس دوران تجارتی سرگرمیاں بھی مکمل طور پر معطل رہیں، جس سے دونوں ممالک کے تاجروں اور مقامی آبادی کو شدید مشکلات کا سامنا کرنا پڑا۔
یہ بھی پڑھیں: پاکستان نے امریکا اور بھارت کے دفاعی معاہدے کا نوٹس لیا ہے، دفتر خارجہ کا ردعمل
ذرائع کے مطابق افغان شہریوں کی واپسی کی اجازت اس وقت دی گئی جب 30 اکتوبر کو استنبول میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان دہشت گردی سے متعلق معاملات کے پرامن حل پر اتفاق ہوا۔ اس فیصلے کے بعد طورخم بارڈر پر تعینات حکام کو فوری طور پر عملہ طلب کرنے اور واپسی کے عمل کو ممکن بنانے کی ہدایت دی گئی۔
سرحد کھلنے کی خبر سن کر لنڈی کوتل اور جمرود میں موجود افغان خاندانوں میں خوشی کی لہر دوڑ گئی۔ ان کا کہنا تھا کہ وہ گزشتہ 20 دنوں سے واپسی کے منتظر تھے اور اپنے وسائل تقریباً ختم کر چکے تھے۔ افغان شہریوں نے امید ظاہر کی کہ اب وہ باعزت طریقے سے اپنے وطن واپس جا سکیں گے۔
یہ بھی پڑھیں: ٹیکس ریٹرن جمع کروانے والوں کی تعداد میں اضافہ،ایف بی آر کے اعدادوشمارجاری
وفاقی وزیر اطلاعات عطا تارڑ نے بھی گزشتہ روز کہا تھا کہ تجارت کے لیے پاک افغان سرحدیں فی الحال بند رہیں گی اور اس حوالے سے فیصلہ بعد میں کیا جائے گا۔ ان کے مطابق حکومت تمام فیصلے قومی مفاد اور علاقائی سلامتی کو مدنظر رکھتے ہوئے کر رہی ہے۔




