چین کا منصوبہ: پاکستانی خلا باز مختصر دورانیے کے مشنز میں شامل ہوں گے

بیجنگ: چین نے اعلان کیا ہے کہ پاکستانی خلا باز چینی خلائی اسٹیشن کے مختصر دورانیے کے مشنز میں حصہ لیں گے۔ سرکاری خبر رساں ادارے شنہوا کے مطابق، چین کے خلائی ادارے (China Manned Space Agency) نے جمعرات کو پریس کانفرنس میں بتایا کہ دو پاکستانی خلا باز چینی خلا بازوں کے ساتھ تربیت حاصل کریں گے، جن میں سے ایک کو پے لوڈ اسپیشلسٹ  کے طور پر منتخب کیا جائے گا۔

یہ پیش رفت چین اور پاکستان کے درمیان خلا میں تعاون کے نئے باب کا آغاز قرار دی جا رہی ہے۔ دونوں ممالک کے خلائی اداروں کے درمیان اس سال کے آغاز میں ایک اہم معاہدہ طے پایا تھا، جس کے تحت پاکستان کے پہلے خلا باز چینی خلائی اسٹیشن ’’تیانگونگ‘‘ (Tiangong) کے مشن میں شامل ہوں گے۔

سپارکو اور چین کے انسانی خلائی ادارے کے درمیان دستخط ہونے والے اس معاہدے کے تحت دو پاکستانی خلا باز چین کےایسٹرونوڈ سینٹر میں تربیت حاصل کریں گے۔ ان میں سے ایک خلا باز کو سائنسی پے لوڈ اسپیشلسٹ کے طور پر تیار کیا جائے گا تاکہ وہ چینی خلائی اسٹیشن پر سائنسی تجربات انجام دے سکیں۔

بیان کے مطابق، خلا بازوں کے انتخاب کا عمل اپریل 2025 میں شروع کیا گیا تھا۔ منتخب پاکستانی خلا باز کا مشن مختلف سائنسی شعبوں میں تجربات پر مشتمل ہوگا، جن میں حیاتیاتی و طبی سائنس، فلویڈ میکینکس، خلائی تابکاری، ماحولیاتی نظام، مٹیریل سائنسز، مائیکرو گریویٹی اسٹڈیز، اپلائیڈ فزکس، ایروسپیس اور فلکیات شامل ہیں۔

چینی خلائی اسٹیشن جدید ترین تجرباتی آلات اور بیرونی ایڈاپٹرز سے لیس ہے، جو مختلف تحقیقی شعبوں میں مشترکہ تجربات کی سہولت فراہم کرتے ہیں۔ ان تجربات کے نتائج طبی تحقیق، ماحولیات کی نگرانی اور خلائی ٹیکنالوجی میں نئی پیش رفت کا باعث بنیں گے، جس سے زمین پر زندگی کے معیار میں بہتری متوقع ہے۔

رواں ماہ کے آغاز میں پاکستان اور چین نے اسپیس سائنسز میں تعاون کو مزید فروغ دینے پر اتفاق کیا، جس میں خلا بازوں کی تربیت اور پاکستان اسپیس سینٹر کے قیام کے منصوبے شامل ہیں۔ یہ تعاون 2025 سے 2029 تک جاری رہنے والے “ایکشن پلان” کا حصہ ہے، جو دونوں ممالک کے درمیان خلائی تحقیق میں قریبی اشتراک کی بنیاد رکھے گا۔

یہ بھی پڑھیں: امریکا اور چین کے درمیان کئی معاملات پر اتفاق، ٹرمپ اور شی جن پنگ کی اہم ملاقات

دونوں ممالک نے 2021 تا 2030 اسپیس کوآپریشن آؤٹ لائن پروگرام پر عمل جاری رکھنے کے عزم کا اظہار بھی کیا ہے، جس میں چاند اور ڈیپ اسپیس مشنز میں تعاون اور جدید خلائی ٹیکنالوجی کے اشتراک پر اتفاق شامل ہے۔ یہ معاہدہ مستقبل میں پاکستان کی انسانی خلائی پروازوں میں شمولیت کے راستے کو بھی ہموار کرے گا۔

Scroll to Top