لندن: برطانوی شاہی خاندان جو دنیا بھر میں روایت، وقار اور قومی تشخص کی علامت سمجھا جاتا ہے، ایک بار پھر شدید اختلافات کی زد میں آ گیا ہے۔ حالیہ رپورٹس کے مطابق، خاندان کے اندر جاری کشیدگی مزید بڑھ گئی ہے اور اس بار معاملہ شہزادہ ولیم، شہزادی بیٹریس، شہزادی یوجینی اور شہزادہ اینڈریو کے درمیان شدت اختیار کر گیا ہے۔
برطانوی میڈیا کی رپورٹ کے مطابق شہزادہ ولیم نے اپنی دونوں کزنز، شہزادی بیٹریس اور شہزادی یوجینی کو اپنے والد شہزادہ اینڈریو کے حوالے سے سخت انتباہ جاری کیا ہے۔ ڈیلی میل میں شائع رپورٹ کے مطابق، شہزادہ ولیم نے مبینہ طور پر دونوں شہزادیوں سے کہا کہ وہ اپنے والد پر دباؤ ڈالیں کہ وہ رائل لاج سے منتقل ہو جائیں، ورنہ ان کے شاہی القابات پر نظرِثانی کی جا سکتی ہے۔
اس معاملے کا انکشاف معروف برطانوی صحافی ایملی میٹلِس نے کیا ہے، جنہوں نے 2019 میں بی بی سی کے لیے شہزادہ اینڈریو کا ایک خصوصی انٹرویو کیا تھا۔ انہوں نے ایک پوڈکاسٹ میں گفتگو کرتے ہوئے بتایا کہ گزشتہ جمعرات کی شب رائل لاج کے باہر میڈیا میں ہلچل مچ گئی تھی، جب شاہی خاندان کے اندر جاری اس تنازعے سے متعلق نئی معلومات سامنے آئیں۔
ایملی میٹلِس کے مطابق شہزادہ ولیم کی ملاقات اپنی دونوں کزنز شہزادی بیٹریس اور یوجینی سے ہوئی تھی، جہاں انہیں کہا گیا کہ اگر وہ اپنے والد کو رائل لاج سے منتقل کرنے پر آمادہ نہیں کرتیں تو ان کے شاہی القابات کا جائزہ لیا جائے گا۔ انہوں نے بتایا کہ فی الحال دونوں شہزادیاں شاہی خطابات رکھنے کی مجاز ہیں، لیکن ان پر دباؤ بڑھ رہا ہے کہ اگر حالات نہ بدلے تو یہ مراعات ختم کی جا سکتی ہیں۔
برطانوی صحافی کے مطابق شہزادہ اینڈریو اپنی بیٹیوں کے شاہی مراعات برقرار رکھنے کے لیے ہر ممکن کوشش کریں گے۔ ڈیلی میل کے مطابق، کنگ چارلس اور شہزادہ اینڈریو کے درمیان رائل لاج کی ملکیت اور رہائش کے معاملے پر کئی ماہ سے جاری اختلافات مزید شدت اختیار کر گئے ہیں، اور اب اس تنازعے نے شاہی خاندان کی اگلی نسل کو بھی اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: ایلون مسک نے نیا مصنوعی ذہانت انسائیکلوپیڈیا ”گروکی پیڈیا“ لانچ کر دیا




