بلوچستان: ہائپرسونک میزائل تجربہ یا ۔۔؟آسمان پر رنگ برنگی روشنی سے دنیا حیران

اسلام آباد(کشمیر ڈیجیٹل) متعدد سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے یہ خبریں گردش کرنے لگیں کہ پاکستان نے مبینہ طور پر ICBM یا ہائپرسونک میزائل کا تجربہ کیا

سوشل میڈیا اکاونٹس نے کوئٹہ کے قریب بلوچستان میں آسمانوں پر غیر معمولی اور رنگین بادلوں کی تشکیل کا حوالہ دیا گیا ہے۔

ایک صارف، Clash Report نے X پر ایک پوسٹ شیئر کی، جس میں دعویٰ کیا گیا کہ پاکستان نے ممکنہ طور پر آج صبح بلوچستان کے ہرنائی کے قریب ایک غیر مصدقہ میزائل کا تجربہ کیا ہے۔

مقامی لوگوں نے گھومتے ہوئے پگڈنڈیوں اور چمکدار پلموں کو دیکھا۔ OSINT کے ذرائع ممکنہ بیلسٹک یا ہائپر سونک ٹیسٹ تجویز کرتے ہیں،” انہوں نے تصاویر شیئر کرنے کے ساتھ لکھا۔

دوسری جانب وادی کوئٹہ سمیت بلوچستان کے مختلف علاقوں میں آج صبح آسمان پر رنگ برنگی روشنیوں کا دلکش ہالہ دیکھنے کو ملا، جس نے شہریوں کو حیران کر دیا۔

شہریوں نے اس نایاب منظر کو اپنے موبائل فونز میں قید کر لیا، اور دیکھتے ہی دیکھتے ویڈیوز و تصاویر سوشل میڈیا پر وائرل ہو گئیں۔

The Daily CPEC کی ایک اور پوسٹ، جس نے 106k آراء حاصل کیں، یہ بھی لکھا کہ “پاکستان نے اگلے نسل کے ہائپر سونک میزائل کا کامیاب تجربہ کیا

جس سے سٹریٹجک دفاعی صلاحیت میں ایک بڑی چھلانگ لگائی گئی۔”بہت سے دوسرے سوشل میڈیا اکاؤنٹس نے بھی اشارہ کیا کہ بادل کی تشکیل میزائل تجربے یا نئی فوجی ٹیکنالوجی کا نتیجہ ہے۔

فیکٹ چیک

پاکستان کے محکمہ موسمیات نے ایک بیان میں اس بات کی تصدیق کی ہے کہ منگل کی صبح کوئٹہ میں نایاب “لینٹیکولر کلاؤڈ فارمیشن” دیکھا گیا تھا۔

یہ منفرد نظارہ صبح تقریباً 6 بج کر 20 منٹ پر کوئٹہ، نوشکی، دالبندین اور قریبی علاقوں میں دیکھا گیا، جب آسمان پر ایک خوبصورت قوسِ نُما ہالہ مختلف زاویوں سے چمکتا دکھائی دیا۔

چند منٹوں بعد منظر دھیرے دھیرے مدھم ہوا اور تقریباً 6:45 پر افق سے غائب ہو گیا۔تاہم، اس دلکش مظہرِ قدرت کے پیچھے کوئی ماورائی راز نہیں بلکہ ایک قدرتی سائنسی عمل تھا۔

28 اکتوبر 2025 کو صبح سویرے کوئٹہ شہر کے مشرقی رینج کوہ مردار پر بادل کی شکل دیکھنے میں آئی۔

بادل طلوع آفتاب سے پہلے نمودار ہوئے، تقریباً 20 منٹ تک برقرار رہے، اور طلوع آفتاب سے ٹھیک پہلے منتشر ہو گئے۔

بلوچستان کے کئی علاقوں سے شہریوں نے نایاب بادل کے رجحان کی تصاویر اور ویڈیوز سوشل میڈیا پر شیئر کیں۔

برطانوی ماہرین موسمیات کے مطابق، لینٹیکولر بادل عینک کی شکل کے اوروگرافک لہر والے بادل ہیں جو اس وقت بنتے ہیں جب ہوا مستحکم ہوتی ہے اور ہوائیں پہاڑوں اور پہاڑوں پر ایک ہی یا ایک جیسی سمت سے ٹراپوسفیئر کے ذریعے مختلف بلندیوں پر چلتی ہیں۔

محکمہ موسمیات کے ترجمان انجم نذیر کے مطابق،آج صبح کوئٹہ کے مشرقی پہاڑی سلسلے کوہِ مردار کے اوپر ایک نایاب قسم کے لینٹیکیولر بادل (Lenticular Clouds) کی تشکیل دیکھی گئی۔

انہوں نے بتایا کہ یہ بادل دراصل عدسے (لینس) کی شکل کے ہوتے ہیں، جو عموماً پہاڑوں کے اوپر مستحکم اور نم ہوا کے گزرنے سے بنتے ہیں۔ جب ہوا پہاڑوں کے اوپر سے گزرتی ہے تو فضائی لہریں پیدا ہوتی ہیں، اور جہاں یہ ٹھنڈی ہو کر اپنے نقطۂ شبنم تک پہنچتی ہے، وہاں یہ بادل تشکیل پاتے ہیں، جبکہ نچلی جگہوں پر بخارات بن کر غائب ہو جاتے ہیں۔

انجم نذیر کے مطابق، ایسے بادل بعض اوقات اپنی اُڑن طشتری جیسی ہموار شکل کی وجہ سے لوگوں کو ’’UFO‘‘ یا نامعلوم فضائی اشیاء کا گمان دلاتے ہیں۔ تاہم یہ ایک قدرتی اور سائنسی مظہر ہے جو مخصوص موسمی حالات میں ہی نظر آتا ہے۔

شہریوں نے اس خوبصورت منظر کو “قدرت کا حسین کرشمہ” قرار دیا، جبکہ سوشل میڈیا پر کوئٹہ کے آسمان پر بننے والے ان “جادوئی بادلوں” کی تصاویر دیکھنے والوں کو دلفریب احساس میں مبتلا کر گئیں۔

مزید یہ بھی پڑھیں:ایڈوائزر وفاقی محتسب کی سربراہی میں کھلی کچہری،عوامی شکایات درج

Scroll to Top