یومِ سیاہ کشمیر:صدر مملکت، وزیراعظم اور وزیر خارجہ پاکستان نے کشمیری عوام کے ساتھ یکجہتی کا پیغام دیا

کنٹرول لائن کے دونوں جانب اور دنیا بھر میں مقیم کشمیری آج پیر 27 اکتوبر کو یومِ سیاہ منا رہے ہیں تاکہ بھارتی زیرِ قبضہ جموں و کشمیر پر جاری غیرقانونی قبضے کے خلاف آواز بلند کی جا سکے۔ اس دن کو 78 سال مکمل ہو گئے ہیں جب 27 اکتوبر 1947 کو بھارت نے اپنی فوجیں سری نگر میں داخل کر کے ریاست جموں کشمیر کے ایک بڑے حصے پر غاصبانہ قبضہ کر لیا تھا۔

اسلام آباد میں مرکزی یکجہتی واک اور تقاریب:

پاکستان سمیت دنیا بھر میں آج احتجاجی ریلیاں، یکجہتی واکس اور خصوصی تقریبات منعقد کی جا رہی ہیں۔ اسلام آباد میں دفترِ خارجہ سے ڈی چوک تک مرکزی یکجہتی واک کا اہتمام کیا گیا ہے۔ شہر کی سڑکوں پر کشمیر سے اظہارِ یکجہتی کے پوسٹرز اور فلیکسز آویزاں کر دیے گئے ہیں، جن پر ’کشمیر بنے گا پاکستان‘ اور ’بھارت کا قبضہ نامنظور‘ جیسے نعرے درج ہیں۔

اسکولوں اور کالجز میں یومِ سیاہ کی تقریبات:

وفاقی وزارتِ تعلیم کے تحت ملک بھر کے اسکولوں اور کالجز میں یومِ سیاہ کی مناسبت سے تقاریب منعقد کی جا رہی ہیں۔ طلبہ کو کشمیری عوام کی جدوجہدِ آزادی اور بھارتی مظالم کے بارے میں آگاہی دی جا رہی ہے۔

دنیا بھر میں احتجاجی مظاہرے:

دنیا کے مختلف ممالک میں مقیم کشمیری کمیونٹیز نے بھی احتجاجی مظاہروں کا اہتمام کیا ہے۔ عالمی برادری کو بھارتی مظالم، انسانی حقوق کی سنگین خلاف ورزیوں اور 5 اگست 2019 کے غیر قانونی اقدامات کی جانب متوجہ کیا جا رہا ہے۔ بی جے پی کی زیرِ قیادت ہندوتوا حکومت نے اس روز مقبوضہ جموں کشمیر کی خصوصی آئینی حیثیت ختم کر دی تھی جس سے خطے کی سیاسی اور سماجی صورتحال میں گہری تبدیلیاں رونما ہوئیں۔

صدرِ مملکت آصف علی زرداری کا پیغام:
صدرِ مملکت آصف علی زرداری نے یومِ سیاہ کے موقع پر کہا کہ ’27 اکتوبر 1947 کشمیر کی تاریخ کا سیاہ ترین دن ہے۔ بھارتی افواج کا سری نگر پر قبضہ بین الاقوامی قوانین کی کھلی خلاف ورزی تھی۔‘ انہوں نے مزید کہا کہ ’بھارت کی 5 اگست 2019 کی کارروائیاں غیرقانونی اور غیر اخلاقی ہیں۔ کشمیر کی خصوصی حیثیت ختم کر کے بھارت نے عالمی معاہدوں کی خلاف ورزی کی۔‘ صدر زرداری نے عالمی برادری سے مطالبہ کیا کہ وہ بھارت کو انسانی حقوق کی پامالیوں پر جواب دہ ٹھہرائے۔

وزیراعظم شہباز شریف کا بیان:
وزیراعظم شہباز شریف نے کہا کہ ’ہر سال 27 اکتوبر ہمیں اس تاریک دن کی یاد دلاتا ہے جب بھارت نے اپنی افواج سری نگر میں داخل کر کے کشمیری عوام کے حقِ خودارادیت کو پامال کیا۔‘ انہوں نے کہا کہ اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کے مطابق مسئلہ کشمیر کے پرامن حل کے بغیر برصغیر میں پائیدار امن ممکن نہیں۔ وزیراعظم نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان عالمی سطح پر کشمیریوں کی آواز بلند کرتا رہے گا۔

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کا ردِعمل:

نائب وزیراعظم اسحاق ڈار نے کہا کہ ’بھارتی قبضے کے 78 برس گزرنے کے باوجود کشمیری عوام بدترین ظلم و جبر کا شکار ہیں۔ بھارت اقوامِ متحدہ کی قراردادوں کی مسلسل خلاف ورزی کر رہا ہے جبکہ پاکستان سلامتی کونسل کی قراردادوں کی پاسداری کے اپنے عزم پر قائم ہے۔‘

Scroll to Top