پاکستان پیپلزپارٹی کو آزاد جموں و کشمیر میں حکومت بنانے کے لیے ستائیس ( 27 )ارکان کی حمایت درکار ہے ۔
نجی ٹی وی کے مطابق پی پی پی کے پاس آزاد کشمیر اسمبلی میں فی الحال 17 نشستیں ہیں ، جبکہ مسلم لیگ ن کے ارکان کی تعداد 9 ہے ۔
اگر پاکستان مسلم لیگ ن کی حمایت مل گئی تو پی پی پی کے ارکان کی مجموعی تعداد 26 ہو جائے گی ، تاہم پھر بھی ایک رکن کی کمی ہوگی ۔
ن لیگ کی جانب سے تعاون نہ ملنے کی صورت میں، پی پی پی نے فارورڈ بلاک کے ارکان سے رابطے تیز کر دئیے ہیں اور توقع ہے کہ چند روز میں اہم پیش رفت سامنے آئے گی ۔
چند گھنٹے قبل ایوان صدر میں پی پی آزاد کشمیر کی پارلیمانی پارٹی کا اجلاس بھی ہوا، جس میں پارٹی نے آزاد کشمیر میں ان ہاؤس تبدیلی کے فیصلے کو برقرار رکھا ۔
مزید یہ بھی پڑھیں:صدر مملکت نے پیپلز پارٹی کو آزاد کشمیر میں حکومت بنانے کا گرین سگنل دے دیا
پی پی پی نے اس کے لیے اپنی حکومت بنانے کی حکمت عملی تیار کر لی ہے اور آئندہ 72 گھنٹوں کے اندر وزیراعظم آزاد کشمیر کے خلاف تحریک عدم اعتماد پیش کرنے کا امکان ہے ۔
اجلاس میں پی پی پی کے چیئرمین بلاول بھٹو زرداری ، پارٹی کے دیگر رہنما اور پی پی آزاد کشمیر کی قیادت شریک ہوئے ۔
کشمیری قیادت نے صدر زرداری کو ان ہاؤس تبدیلی سے متعلق بریفنگ دی ، جبکہ پہلے ہی چیئرمین بلاول بھٹو اور صدر زرداری کی منظوری بھی حاصل کر لی گئی تھی ۔
سابق وزرائے اعظم آزاد کشمیر ، سردار تنویر الیاس ، چوہدری یاسین اور سردار جاوید ایوب نے کہا کہ پی پی آزاد کشمیر میں اپنی حکومت بنانے جا رہی ہے اور اس کیلئے ہمارے پاس ارکان کی مطلوبہ تعداد موجود ہے ۔




