امریکہ: شٹ ڈاؤن 23 ویں دن میں داخل، فلائٹ شیڈول متاثر ہونے کا خدشہ

نیویارک (کشمیر ڈیجیٹل)ٹرمپ انتظامیہ کی ناقص پالیسیوں کیخلاف امریکہ میں شٹ ڈاؤن23 ویں روز میں داخل ، فلائٹ شیڈول متاثر ہونے کا خدشہ پیدا ہوگیا ہے، حکومتی شٹ ڈاؤن کے 23 ویں روز پروازوں میں مزید تعطل بڑھنے کا امکان ظاہر کیا جارہا ہے۔

غیر ملکی میڈیا رپورٹس کے مطابق امریکی ٹرانسپورٹ سیکریٹری کا کہنا ہے کہ شٹ ڈاؤن کے باعث ایئر ٹریفک نظام دباؤ کا شکار ہے۔

کانگریسی ریپبلکن رہنماؤں نے بھی ممکنہ سفری بحران سے متعلق تشویش ظاہرکردی ہے، 13 ہزار ایئر ٹریفک کنٹرولرز اور 50 ہزار سیکیورٹی اہلکار تنخواہوں کے بغیر ڈیوٹی پر مجبور ہوچکے ہیں۔

امریکا میں شٹ ڈاؤن امریکی تاریخ کا دوسرا طویل ترین بن گیا ہے اور کانگریس میں ڈیڈلاک برقرار ہے۔

ڈیموکریٹس اور ریپبلکنز کے درمیان معاہدے کے کوئی آثار نظر نہیں آرہے، ڈیموکریٹس کی صحت کی سہولتوں کے لیے سبسڈی میں توسیع کی تجویز پر زور دیا ہے۔

ڈیموکریٹس کا موقف ہے کہ سبسڈی ختم ہونے سے لاکھوں افراد علاج سے محروم ہوسکتے ہیں۔ صدر ٹرمپ اور ریپبلکنز کا موقف ہے کہ حکومت کھلنے کے بعد ہی صحت فنڈنگ پر بات ہوگی۔

شٹ ڈاؤن کے باعث کانگریس میں حکومت کی فنڈنگ کے بلز منظور نہ ہوسکے، 23 لاکھ سرکاری ملازمین بغیر تنخواہ یا جبری رخصت پر ہیں۔ماہرین معیشت نے انتباہ کیا کہ طویل شٹ ڈاؤن امریکی معیشت کو نقصان پہنچا سکتا ہے،

ٹرمپ انتظامیہ نے مختلف اداروں میں بڑے پیمانے پر برطرفیوں کی کوشش شروع کردی ہے۔قانونی ماہرین کے مطابق برطرفیوں کا اقدام متنازع اور قانونی طور پر مشکوک ہے۔

مزید یہ بھی پڑھیں:علیمہ خان کا شناختی کارڈ، پاسپورٹ بلاک اور بینک اکاؤنٹس منجمد کرنے کا حکم

Scroll to Top