پاک پولینڈ تعلقات میں نئی پیش رفت:پولینڈ کے نائب وزیراعظم دو روزہ دورے پر پاکستان پہنچ گئے

(کشمیر ڈیجیٹل) پاکستان اور پولینڈ کے تعلقات ایک نئے سنگ میل کی جانب بڑھ رہے ہیں، جب کہ پولینڈ کے نائب وزیرِاعظم و وزیرِخارجہ رادوسلاف سکورسکی جمعرات کو دو روزہ سرکاری دورے پر پاکستان پہنچ گئے ہیں۔

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق یہ دورہ دونوں ممالک کے باہمی تعاون کو فروغ دینے کے لیے نہایت اہمیت رکھتا ہے۔ نائب وزیراعظم و وزیرِخارجہ سکورسکی کا یہ دوسرا دورۂ پاکستان ہے، اس سے قبل وہ 2011 میں پاکستان آ چکے ہیں۔

پاکستان کی جانب سے وزیرِخارجہ و نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اپنے پولش ہم منصب سے ملاقات کریں گے، جبکہ وفود کی سطح پر مذاکرات کا انعقاد بھی کیا جائے گا۔ ان مذاکرات میں دوطرفہ تعلقات کے تمام پہلوؤں پر تبادلۂ خیال ہوگا۔ مذاکرات کے اختتام پر دونوں وزرا ایک مشترکہ پریس اسٹیٹمنٹ جاری کریں گے، جس میں فیصلوں اور سمجھوتوں کی تفصیلات عوام اور میڈیا کو فراہم کی جائیں گی۔

دفترِ خارجہ کے مطابق پاکستان پولینڈ کے ساتھ تعلقات کو صرف سفارتی سطح پر نہیں بلکہ عملی میدانوں میں بھی مستحکم بنانے کے لیے پُرعزم ہے۔

پس منظر اور مواقع:

پاکستان اور پولینڈ کے تعلقات ماضی میں بھی مضبوط بنیادوں پر قائم رہے ہیں۔ دونوں ممالک نے حالیہ برسوں میں تجارت، سرمایہ کاری، توانائی، دفاع اور دیگر شعبوں میں دلچسپی کا اظہار کیا ہے۔ جولائی 2025 میں دونوں ممالک نے نویں سیاسی مشاورت مکمل کی، جس کے دوران اعلیٰ سطحی دوروں اور مختلف شعبوں میں تعاون بڑھانے پر اتفاق کیا گیا۔

پاکستانی وزیرِخارجہ نے صنعت، تجارت، توانائی اور زراعت کے شعبوں میں پولش سرمایہ کاری کی صلاحیت پر روشنی ڈالی، اور پولش کمپنیوں کو پاکستان میں سرمایہ کاری کی دعوت دی۔

متوقع ایجنڈا:

دورے کے دوران تجارت اور سرمایہ کاری کے مواقع پر بات چیت ہوگی۔ پاکستان پولینڈ کی ٹیکنالوجی اور تجربے سے استفادہ کرنا چاہتا ہے، خاص طور پر زرعی مصنوعات، پھلوں، اناج، گوشت اور فوڈ پروسیسنگ کے شعبوں میں۔

دونوں ممالک عالمی فورمز پر تعاون بڑھانے، اقوامِ متحدہ کے منشور کے تحت مشترکہ مؤقف اختیار کرنے اور تنازعات کے حل کے طریقۂ کار پر گفتگو کریں گے۔

توقعات اور چیلنجز:

یہ دورہ پاکستان اور پولینڈ کے تعلقات کو ایک نئے دور میں داخل کرنے کی صلاحیت رکھتا ہے۔ توقع کی جا رہی ہے کہ اب یہ تعلقات صرف سفارتکاری تک محدود نہیں رہیں گے بلکہ اقتصادی، تکنیکی اور تجارتی سطح پر بھی وسیع ہوں گے۔ تاہم، دونوں ممالک کے درمیان تجارتی ڈھانچے اور لاجسٹک مسائل اب بھی ایک چیلنج ہیں۔ خاص طور پر زرعی برآمدات میں درپیش رکاوٹوں کو کم کرنے کے لیے دونوں فریقین کو عملی اقدامات کرنے ہوں گے۔

یہ بھی پڑھیں: پی ایس ایل میں ہلچل! پی سی بی نے اہم ٹیم کو معطل کر دیا

یہ دورہ علامتی اور عملی دونوں اعتبار سے اہمیت رکھتا ہے، کیونکہ پاکستان اور پولینڈ اب ماضی کی بنیاد پر ایک فعال اور مستقبل نگر شراکت داری کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ مشترکہ پریس اسٹیٹمنٹ آنے والے دنوں میں دونوں ممالک کے نئے تعاونی لائحہ عمل کی وضاحت کرے گا۔

Scroll to Top