کھوئی رٹہ :تسمیہ قتل کیس میں ایک مرتبہ پھر سے نئی جوائنٹ انوسٹی گیشن ٹیم کے قیام کا نوٹیفکیشن جاری کردیا گیا ہے اور 10دن میں تحقیقاتی رپورٹ طلب کی گئی ہے۔
تفصیلات کے مطابق صدر آزاد کشمیر نے تسمیہ قتل کیس کی غیر جانبدارانہ تحقیقات کیلئے جو ائنٹ انویسٹی گیشن ٹیم تشکیل دینے کی منظوری دیدی ہے۔
ڈپٹی انسپکٹر جنرل محمدیاسین قریشی کو جے آئی ٹی کا چیئرمین برقرار رکھا گیا ہے جبکہ جے آئی ٹی میں ایس ایس پی پولیس مظفرآباد ریاض حیدر بخاری، نمائندہ آئی ایس آئی، نمائندہ آئی بی اور ڈی ایس پی اکمل شریف شامل ہیں۔
محکمہ داخلہ کی جانب سے جاری نوٹیفکیشن کے مطابق جے آئی ٹی کو پنجاب فرانزک سائنس ایجنسی اور ایف آئی اےکے کسی بھی گریا 17 کے آفیسرز کے علاو ہ نمائندہ ایم آئی کو معاونت کے لئے اپوئنٹ کرنیکا اختیار حاصل ہوگا۔
یہ بھی پڑھیں: تسمیہ سہیل قتل کیس : کھوئی رٹہ کی خواتین انصاف کیلئے سڑکوں پر نکل آئیں
فرانزک تجزیہ کیلئے حاصل کردہ نمونہ جات کی حفاظت اور ترسیل کی ذمہ داری ایس پی اور جے آئی ٹی کا حصہ ایجنسیزمیں سے کسی ایک رکن کی ذمہ داری ہوگی۔
نوٹیفکیشن میں کہا گیا ہے کہ نمونہ جات کی فوری فرانزک کے پیش نظر ایسے اقدامات اٹھائے جائیں تاکہ کارروائی متاثر نہ ہو۔جے آئی ٹی مقدمہ کی ازسرنوتفتیش کریگی اور 10روز میں حتمی رپورٹ پیش کریگی جبکہ قبل ازیں جاری ہونیوالے نوٹیفکیشن منسوخ کردیئے گئے ہیں۔
یاد رہے کہ تسمیہ کو زیادتی کے بعد قتل کیا گیا تھا ،کھوئیرٹہ پولیس نے ملزم کو گرفتار کرنے کا بھی دعویٰ کیا تھا لیکن عوام تفتیش سے مطمئن نہیں ہیں حتیٰ کہ خواتین نے بھی احتجاجی مظاہرے کئے ہیں۔
احتجاج کے دوران تھانے پر بھی دھاوا بھی بولا گیا تھا جس میں ایس ایچ او سمیت اہلکار زخمی ہوئے تھے ۔
یہ بھی یاد رہے کہ کئی ماہ گزرنے کے باوجود 6سالہ تسمیہ قتل کیس کی تحقیقات مکمل نہیں ہوسکیں جس سے عوام میں تشویش میں اضافہ ہورہا ہے۔





