حویلی کہوٹہ(کشمیر ڈیجیٹل،سعد بخاری) بھارتی گولہ باری سے متاثرہ مکانات کے معاوضے تاحال ادا نہ ہو سکے، انٹرنیٹ سروس کی بحالی کا مطالبہ،ہڈسٹرکٹ کونسلر راجہ خرم کیانی کا کہنا تھا کہ مئی کے مہینے میں بھارتی فوج کی جانب سے کی جانے والی بلا اشتعال گولہ باری سے حویلی کہوٹہ میں متعدد مکانات کو شدید نقصان پہنچا۔
معرکہ بنیان المرصوص کی کامیابی پر پوری قوم کا سر فخر سے بلند ہوا۔ اس موقع پر وزیرِ امورِ کشمیر شہداء کے ورثاء سے اظہارِ ہمدردی کے لیے ضلع حویلی تشریف لائے۔ضلعی انتظامیہ نے وزیرِ امورِ کشمیر کو بریفنگ دیتے ہوئے بتایا کہ ضلع حویلی تینوں اطراف سے لائن آف کنٹرول (ایل او سی) سے گھرا ہوا ہے، جہاں انسانی آبادی مسلسل دشمن کی گولہ باری کی زد میں رہتی ہے۔
وزیرِ امورِ کشمیر نے انسانی جانوں کے تحفظ کے لیے بنکرز کی تعمیر سے متعلق فوری تخمینہ طلب کیا تھا، تاہم تاحال بنکرز تعمیر نہیں ہو سکے۔راجہ خرم کیانی نے کہا کہ مئی میں گولہ باری سے متاثرہ گھروں کے مالکان کو اب تک معاوضہ جات ادا نہیں کیے گئے۔
انہوں نے بتایا کہ عوامی ایکشن کمیٹی کے چارٹر آف ڈیمانڈ میں سندر مار،بھیڈی ٹنل کی تعمیر اور دیگر موبائل نیٹ ورکس کی بحالی بھی شامل تھی، تاہم معاہدے کے دوران بھیڈی ٹنل کو چارٹر آف ڈیمانڈ سے نکال دینا افسوسناک امر ہے۔
انہوں نے کہا کہ ایکشن کمیٹی کے احتجاج کے دوران بند کی گئی موبائل سروسز میں صرف کالز بحال کی گئی ہیں، جبکہ ضلع حویلی کہوٹہ میں واحد موبائل فون کمپنی ایس کام کی سموں پر انٹرنیٹ تاحال بند ہے، جس سے عوام کو تعلیمی اور کاروباری لحاظ سے ناقابلِ تلافی نقصان پہنچ رہا ہے۔
عوام کے نام اپنے پیغام میں راجہ خرم کیانی نے کہا کہ ہمیں ایک مضبوط قوم بن کر پاکستان اور افواجِ پاکستان کے ساتھ سیسہ پلائی دیوار کی طرح کھڑا رہنا ہے۔
انہوں نے ”اربابِ اختیار سے مطالبہ کیا کہ حویلی کے متاثرین کو فوری معاوضہ جات ادا کیے جائیں، انٹرنیٹ سروس بحال کی جائے اور دیگر موبائل نیٹ ورکس کو فعال کیا جائے تاکہ عوام کو بنیادی سہولیات میسر آئیں۔




