(کشمیر ڈیجیٹل): محکمہ ریلوے نے ٹرینوں اور مسافروں کے تحفظ کے لیے بڑا قدم اٹھا لیا ہے۔ ملک میں ریلوے ٹریکس پر دہشتگردی کے بڑھتے ہوئے واقعات اور انسانی جانوں کے ضیاع کو مدنظر رکھتے ہوئے یہ فیصلہ کیا گیا ہے۔
محکمہ ریلوے نے تمام ٹرینوں میں جیمرز لگانے کے احکامات جاری کر دیے ہیں تاکہ دہشتگردانہ سرگرمیوں کو مؤثر طور پر روکا جا سکے۔ حکام کے مطابق ہر ٹرین میں تین جیمرز نصب کیے جائیں گے جبکہ حساس ریلوے روٹس پر سیکیورٹی گشت میں بھی اضافہ کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ قومی اسمبلی کی قائمہ کمیٹی برائے ریلوے کے اجلاس میں کیا گیا۔ اجلاس سات اکتوبر کو جعفر ایکسپریس پر ہونے والے دھماکے کے بعد منعقد ہوا تھا۔ یاد رہے کہ شکارپور میں ریلوے ٹریک پر دھماکے کے نتیجے میں جعفر ایکسپریس کی پانچ بوگیاں پٹڑی سے اتر گئی تھیں اور چھ مسافر زخمی ہوئے تھے۔ اجلاس میں ریلوے کی زمینوں پر قبضہ مافیا کے خلاف سخت کارروائی کی سفارش بھی کی گئی۔ حکام نے بتایا کہ ریلوے کی مجموعی 16 ہزار ایکڑ زمین زیرِ استعمال ہے، جن میں سے 3 ہزار 253 ایکڑ پر غیر قانونی قبضے ہیں جبکہ 457 ایکڑ زمین بااثر افراد کے قبضے میں ہے۔
دوسری جانب، حالیہ دنوں میں کوئٹہ ریلوے اسٹیشن پر ہونے والے دھماکے کے بعد ملک میں ریلوے سیکیورٹی کے حوالے سے خدشات مزید بڑھ گئے ہیں۔ اس افسوسناک واقعے میں متعدد افراد جاں بحق اور کئی زخمی ہوئے تھے۔ واقعے کے بعد اسپتالوں میں ایمرجنسی نافذ کر دی گئی جبکہ تحقیقات جاری ہیں۔ ریلوے ذرائع کے مطابق آئندہ دنوں میں ٹرین اسٹیشنز، پلیٹ فارمز اور ٹریکس پر جدید سیکیورٹی آلات کی تنصیب پر بھی غور کیا جا رہا ہے تاکہ مسافروں کو زیادہ محفوظ ماحول فراہم کیا جا سکے۔ سیکیورٹی اداروں کے ساتھ ریلوے حکام کا قریبی رابطہ برقرار ہے اور مشترکہ حکمتِ عملی پر کام کیا جا رہا ہے۔
یہ بھی پڑھیں: آئی ایم ایف نے پاکستان کی معاشی اصلاحات اور مالی بہتری کا اعتراف کیا
محکمہ ریلوے کے اس اقدام کو ملک بھر میں ٹرین سیکیورٹی کے نظام کو بہتر بنانے کی ایک بڑی پیش رفت قرار دیا جا رہا ہے، تاکہ مستقبل میں ایسے سانحات سے بچا جا سکے۔




