(کشمیر ڈیجیٹل) اسلام آباد کی مقامی عدالت نے سابق وزیراعلیٰ خیبر پختونخوا علی امین گنڈاپور کے ناقابلِ ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرتے ہوئے پولیس کو انہیں گرفتار کرکے عدالت میں پیش کرنے کا حکم دے دیا ہے۔
اسلام آباد کی ڈسٹرکٹ اینڈ سیشن کورٹ میں جوڈیشل مجسٹریٹ مبشر حسن نے علی امین گنڈاپور کے خلاف شراب و اسلحہ برآمدگی کیس کی سماعت کی۔ سماعت کے دوران جب کیس کال ہوا تو علی امین گنڈاپور ایک بار پھر عدالت میں پیش نہیں ہوئے۔ عدالت نے ان کی مسلسل غیرحاضری کا نوٹس لیتے ہوئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کردیے۔
عدالتی حکم کے مطابق پولیس کو ہدایت کی گئی ہے کہ وہ علی امین گنڈاپور کو گرفتار کرکے اگلی سماعت پر عدالت کے روبرو پیش کرے۔ عدالت نے مقدمے کی مزید کارروائی کے لیے کیس کی سماعت 28 اکتوبر تک ملتوی کردی ہے۔ ذرائع کے مطابق علی امین گنڈاپور کے خلاف شراب اور اسلحہ کی برآمدگی سے متعلق مقدمہ اسلام آباد کے تھانہ بارہ کہو میں درج ہے۔ اس مقدمے میں ان پر الزام عائد کیا گیا ہے کہ دورانِ تلاشی پولیس کو ان کی گاڑی سے مبینہ طور پر شراب کی بوتلیں اور اسلحہ برآمد ہوا تھا۔
عدالتی ریکارڈ کے مطابق اس مقدمے میں علی امین گنڈاپور کو متعدد بار طلب کیا جا چکا ہے، تاہم وہ مسلسل غیرحاضری اختیار کرتے رہے، جس کے بعد عدالت نے سخت اقدام اٹھاتے ہوئے ناقابل ضمانت وارنٹ گرفتاری جاری کرنے کا فیصلہ کیا۔ عدالتی ذرائع کے مطابق اب پولیس کو یہ ذمے داری دی گئی ہے کہ وہ وارنٹ کی تعمیل یقینی بنائے اور علی امین گنڈاپور کو گرفتار کرکے مقررہ تاریخ پر عدالت میں پیش کرے تاکہ کیس کی کارروائی آگے بڑھ سکے۔
یہ بھی پڑھیں: ڈونلڈ ٹرمپ کے بیان کے بعد کولمبیا کا ردعمل، صدر گستاوو پیٹرو نے اہم قدم اٹھا لیا
سیاسی مبصرین کے مطابق یہ مقدمہ ایک بار پھر سیاسی منظرنامے میں اہمیت اختیار کرگیا ہے، خاص طور پر ایسے وقت میں جب علی امین گنڈاپور صوبائی سیاست میں دوبارہ متحرک دکھائی دے رہے ہیں۔




