تحریر:عابد عندلیب
عوام کا سمندر ابھی راولاکوٹ نہیں پہنچا تھا کہ نظام نے آخری ہچکی لی اور تمام مطالبات منظور ہوگئے ۔۔
عوام کی قیادت کرنے والے اگر خود آگ میں نہ جل رہے ہوں، ان کے حرفوں سے اور ان کے لہجوں سے شعلے نہ اٹھ رہے ہوں، تو کسی کی اپیل کام آ جاتی ہے۔29 اور 30 سمتبر اور یکم اور 2 اکتوبر کشمیری قوم کی آزمائش تھی۔
کچھ آگ سیاسی چولہوں سے بھی پھیلی، کچھ ماضی کی محرومیاں سلگ رہی تھیں اور کچھ الگ الگ سوچ کے تندور بھی شعلے دے رہے تھے۔ ان 3 دنوں اور تقریبا 80 گھنٹوں پر ایک کتاب لکھی جا سکتی ہے ۔۔۔۔ یہ لڑائی بیرونی دشمنوں سے تو تھی لیکن اندر سے بھی کچھ منحوس اور سپائلر ہر دم غیر یقینی پھیلا رہے تھے ۔۔۔۔
پی سی ہوٹل کے کمرے سے آخری لمحے گم ہوئی فائل سے لیکر رینجرز کے مری پہنچنے تک۔۔۔ ہر محاظ پر آنکھیں تھی
لیکن ان شعلوں کو بجھانے والی دعائیں بھی موجود تھیں، خواہشیں بھی موجود تھیں، اور اس کی اور لیڈرشپ کی Will (عزْم) بھی اس میں شامل تھا۔۔۔ ان شعلوں کے درمیان کہیں میں بھی موجود تھا— اس آرزو اور اس کوشش کے ساتھ کہ اب کسی کے آنگن سے دھواں نہ اٹھے، اب ہمیں اور لاشیں نہ اٹھانی پڑیں۔۔۔۔۔
میں کبھی خود نمائی کا شکار نہیں ہوا۔۔۔۔ یہی وجہ ہے میرے احباب اور حریف دونوں مجھے لیکر کنفیوز رہتے ہیں ۔۔۔۔۔۔۔ اللہ دونوں کو برکت نصیب کرے۔۔بقول شاعر
خوش رہیں خوش رہیں یہ حاسدینِ کرام
ان کو اک دوسرے کی عمر لگے
ہم 15، 20 سال ایک جابر اور کشمیریوں کا استحصال کرنے والی ریاست کی لگائی ہوئی آگ دیکھ چکے ہیں۔۔۔۔ ہم قتل عام کے متحمل نہیں ہوسکتے ۔۔۔۔
آگ اور خون کا ایک طوفان شہر مظفرآباد کی جانب رواں تھا ۔۔۔۔
ایک ہجوم بے کراں اور اس میں کچھ بھیڑیے بھی۔۔۔۔
صرف ایک ادمی کھڑا تھا
جس کا نام ہے کرنل فائق ایوب۔۔۔۔ باخدا صرف ایک آدمی ۔۔۔۔۔
میں نے فایق ایوب والی پہلی تحریر پوسٹ کی تو تحریک انصاف کے امریکہ سے سعودی عرب تک پھیلے دوستوں کی کالز نے پاگل کیے رکھا کہ فائق لاہور والا؟ وہی ہے لاہور والا ۔۔۔ یہ بہت ظالم ہے
آپ سے یہ امید نہیں تھی
آپ لفافہ ہو۔۔۔
آپ کا سافٹ وئیر اپڈیٹ ہوگیا ہے۔۔۔۔
بہت تضحیک بھی کی۔۔۔ کچھ احباب نے تو حد ہی کر دی۔۔۔۔
تین دن میں 7 ہزار فالورز نے بیکاٹ کر دیا۔۔۔۔
لیکن آج پھر انکی تسلی کے لئے یہ نہ لکھنا بد عہدی ہوگی۔۔۔
فائق اگر ظالم ہوتا ۔۔۔ وہ مظفرآباد میں قتل عام کر دیتا ۔۔۔
وہ میرے ساتھ تین راتیں مسلسل نہ جاگتا۔۔۔
وہ وفاق سے ٹیمیں نہ بلاتا۔۔۔۔
اس نے ایک معاہدے کی تکمیل میں اپنی ساری آنا مار دی۔۔۔۔
کاش میں مزید لکھ سکتا ۔۔۔۔
آپ کو حقیقت بتانا فرض ہے
نہ ماننا آپکا حق۔۔۔۔
فائق ایوب حساس آدمی ہے جاب نے اسکو تلخ کر دیا ہوا ہے ۔۔۔ میں اس کو آج سے سات سال پہلے ملا تھا۔۔۔۔ تب وہ ایسا نہیں تھا۔۔۔۔ اج بھی وہ حساس ہے ۔۔۔ لیکن جب پورے کشمیر کی اشرافیہ بھاگ جائے اور پورا کشمیر اس ایک کے رحم و کرم پر ہو تو پھر آدمی تلخ ہو جاتا۔۔۔
جب کوئی انکے متوفی والد کو کوئی گالی دے گا تو گا تو فایق پھول نہیں برسائے گا۔۔۔۔خیر ۔۔۔ چھوڑیں ۔۔۔سروس نہیں تھی۔۔۔ رابطے کا واحد ذریعہ لینڈ لائن کے” دو گھر”…ان گھر والوں کا خصوصی شکریہ جو 80 گھنٹے پر منٹ بعد ہمہ وقت کال اٹھاتے رہے ۔۔اور کبھی کبھی غصہ بھی ہوئے۔۔۔۔۔ یہ کوئی وقت ہے کال کا؟ عجیب آدمی ہیں آپ اب کال نہیں کرنی ۔۔۔ کہاں ڈھونڈیں ہم میر صاحب کو اس وقت رات تین بجے
ایک بار تو مجھے ایک کال ملنے کا 9 گھنٹے انتظار کرنا پڑااور اس دوران یاسیت اپنی آخری حد پر تھی ۔۔۔ مجھے جو جو لوگ آن لائن نظر آتے میں انکو ڈی ایم کرتا
ایک بار وصی خواجہ آن لائن ملے میں نے انکو کال کی وہ اس وقت کشمیر اور ایبٹ آباد کے درمیان کسی پہاڑی پر تھے میں نے کہا ابھی شہر میں جائیں اور شوکت میر صاحب کو تلاش کرکے کسی لینڈ لائن پر جائیں۔۔
تین دن کے اس بے یقینی میں جس آدمی نے میرا سب سے زیادہ ساتھ دیا وہ ہیں جناب حفیظ ہمدانی صاحب جو میرے ساتھ مسلسل جاگتے رہے۔
ستمبر کی اس حوصلہ شکن شبوں میں دم توڑتی امیدوں کے دامن سے لپٹا میں کوہالہ اور مظفرآباد کے درمیان میں کئی بار خود بھی مایوس ہوا لیکن امید نہیں مری۔۔۔آخری سانس تک اس امید کو چراغ بنانے اور اس صورت حال کو کسی غیر منطقی اور خونی انجام سے بچانے کی کوششیں جاری تھیں۔
سو، بہت سے ایسے امن پسندوں، پاکستان اور کشمیریوں کے خیر خواہوں کی کوششوں اور محنتوں میں میری آواز اور میری گزارشات بھی کام آئیں۔ ان صبر آزما ساعتوں میں، میں چاہتا تھا کہ میں اپنی بات کہتا رہوں۔ سو، کہتا گیا، اور اس سے بڑی بات یہ کہ بات سن لی گئی، اور اس سے بھی بڑی بات یہ کہ ہم آگ کے کنارے سے واپس آ گئے۔
میں کل رات اسلام آباد کے ایک میڈیا آفس کے ڈائریکٹر نیوز کے پاس بیٹھا تھا۔۔۔ انہوں نے میر صاحب کی تقریر لائیو سن رکھی تھی۔۔۔ میرے نام پر انکو بھی تعجب ہوا تھا۔۔۔ انہوں نے کہانی سننے کے لئے طلب کیا ۔۔۔ میں حاضر ہوا۔۔۔۔ ان کا ایک جملہ کوٹ کر دیتا ہوں۔۔۔۔ “کاش “مرید کے” میں بھی ایسا فہم بروئے کار لایا گیا ہوتا”۔۔۔۔
خیر۔۔ اللہ نیت کا حال جانتا ہے۔۔۔۔الحمدللہ رب العالمین۔سبحان اللہ العظیم وبحمدہ۔
نہ صرف میں، بلکہ ہماری قوم اور ہمارا خطہ بھی مزید لاشیں اٹھانے سے بچ گیا۔
میری اور ہم سب کی سیاسی وابستگی یا تعلقات ہو سکتے ہیں، لیکن اس لمحے کی قیمت میرے لیے کسی ایسے تعلق اور خواب سے ہزار گنا قیمتی ہے۔ میں سمجھتا ہوں کہ ستمبر کی ان شبوں میں کوئی بھی ایڈونچر پھر ہمیں سنبھلنے نہ دیتا اور ہم سالوں اس آگ میں جلنے لگتے۔ ہمارے دشمن ان شعلوں پر اپنے ہاتھ سینکتے۔کچھ سنئیر افسران جس کی بدولت یہ سب ممکن ہوا انکا شکریہ ۔۔۔
شوکت میر صاحب کی دریا دلی کا شکریہ ۔۔۔
پاکستان میں موجود زمہ داروں کا شکریہ جو میرے ساتھ کئی راتیں جاگتے رہے ۔جو انسانی جانیں بچانے میں بے تاب تھے
وطن کی مٹی کی محبت میں ہم آشفتہ سروں نے
وہ قرض اتارے ہیں جو واجب بھی نہیں تھے
بہت شکریہ پاکستان، بہت شکریہ کشمیری قوم، اور کشمیری عوامی لیڈرشپ۔
اور ڈھیر محبتیں ہیں عوامی ایکشن کمیٹی کے لیے کہ انہوں نے بات دلیل اور خلوص سے کی اور سنی، اور ہمیں شمار میں بھی رکھا۔ یوں ہم ایک سانحے اور آگ کے الاؤ سے بچ آئے کہ بقول شاعر
ہزار دشت پڑے لاکھ آفتاب ابھرے
جبیں پہ گرد پلک پر نمی نہیں آئی
کہاں کہاں نہ لٹا قافلہ فقیروں کا
متاعِ درد میں لیکن کمی نہیں آئی
مزید یہ بھی پڑھیں:جویریہ زبیر قتل کیس،7 نامزد ملزمان کیخلاف مقدمہ درج، رپورٹ ہائیکورٹ میں پیش




