واشنگٹن (کشمیر ڈیجیٹل) وفاقی وزیر خزانہ محمد اورنگزیب نے کہا ہے کہ بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) پاکستان پر قومی مفاد کے خلاف کوئی شرط عائد نہیں کر سکتا۔
واشنگٹن میں پاکستانی سفارتخانے میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے وزیر خزانہ نے کہا کہ آئی ایم ایف اور ورلڈ بینک کے ساتھ حالیہ مذاکرات مثبت اور تعمیری ثابت ہوئے ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ ’’اب تک آئی ایم ایف پروگرام کے تحت کی جانے والی تمام اصلاحات پاکستان کی اپنی معاشی ترجیحات کے مطابق ہیں، جنہوں نے معیشت کو مستحکم کیا ہے۔‘‘
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ’’براہ کرم یہ بتائیں کہ آئی ایم ایف کی کون سی تجویز شدہ اصلاحات قومی مفاد سے مطابقت نہیں رکھتیں؟‘‘ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کو 31 دسمبر تک آئی ایم ایف سے 1.2 ارب ڈالر کی قسط ملنے کی توقع ہے، جبکہ فنڈ کا ایگزیکٹو بورڈ جلد اس معاہدے کی منظوری دے گا۔
وزیر خزانہ نے اپنے چھ روزہ دورہ واشنگٹن کے اختتام پر کہا کہ امریکا کے ساتھ تجارتی اور ٹیرف معاہدہ ایک سے دو ہفتوں میں طے پانے کی امید ہے۔
انہوں نے مزید بتایا کہ حکومت نیویارک میں واقع روز ویلٹ ہوٹل کی نجکاری سے متعلق فیصلے کے قریب ہے۔ یہ عمارت پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز (PIA) کی ملکیت ہے اور ایک صدی پرانے مین ہیٹن لینڈمارک کے طور پر جانی جاتی ہے۔ سات بین الاقوامی کنسورشیا، جن میں سٹی گروپ بھی شامل ہے، اس نجکاری عمل میں مشاورتی خدمات فراہم کرنے کے لیے بولیاں دے چکے ہیں۔
میڈیا رپورٹس کے مطابق، اسلام آباد براہ راست فروخت کے بجائے مشترکہ منصوبے (Joint Venture) کے ماڈل پر غور کر رہا ہے تاکہ اثاثے کی طویل مدتی قدر میں اضافہ کیا جا سکے۔ یہ عمل آئی ایم ایف کے سات ارب ڈالر کے پروگرام کے تحت نجکاری کے حصے کے طور پر جاری ہے۔
عالمی مالیاتی اصلاحات کی حمایت:
ایک علیحدہ اجلاس میں پاکستان نے 68 دیگر ممالک کے ساتھ مل کر عالمی مالیاتی نظام میں اصلاحات کی حمایت کی، تاکہ ماحولیاتی تبدیلیوں کے اثرات سے دوچار معیشتوں کو بہتر سہارا مل سکے۔ یہ اپیل واشنگٹن میں ورلڈ بینک اور آئی ایم ایف کے سالانہ اجلاس کے موقع پر ہونے والے ’’V20‘‘ (Vulnerable 20) ممالک کے وزرائے خزانہ کے اجلاس میں کی گئی۔
محمد اورنگزیب نے کہا کہ ’’پاکستان عالمی مالیاتی ڈھانچے میں اصلاحات کے وی 20 ایجنڈے کی مکمل حمایت کرتا ہے تاکہ ماحولیاتی مالیات زیادہ قابل رسائی اور سستی ہو سکے۔‘‘
انہوں نے زور دیا کہ ماحولیاتی مالیات کو کمزور معیشتوں کی ضروریات کے مطابق ڈھالنے کی ضرورت ہے تاکہ پائیدار ترقی یقینی بنائی جا سکے۔ پاکستان جو عالمی اخراج میں 0.9 فیصد سے بھی کم حصہ رکھتا ہے، کلائمیٹ رسک انڈیکس 2025 میں پہلے نمبر پر ہے۔ ماہرین کے مطابق، پاکستان کو ماحولیاتی خطرات سے نمٹنے کے لیے سالانہ 40 سے 50 ارب ڈالر درکار ہیں۔
وزیر خزانہ نے بتایا کہ حکومت ماحولیاتی مالیات کے لیے پائیدار اقدامات کر رہی ہے جن میں گرین بانڈز کا اجرا، کریڈٹ ویلیو پروجیکٹس کی تیاری، اور کاربن مارکیٹ کے قیام جیسے اقدامات شامل ہیں۔
سیلاب کے نقصانات پر عالمی بینک سے بات چیت:
محمد اورنگزیب نے اپنے دورے کے دوران عالمی بینک کے صدر اجے بانگا سے ملاقات بھی کی، جس میں انہوں نے حکومت کے سیلابی نقصانات کے بعد کے اقدامات پر بریفنگ دی۔ وزیر خزانہ نے عالمی بینک کی بروقت امداد پر شکریہ ادا کیا اور چھوٹے کسانوں تک ٹیکنالوجی پلیٹ فارمز اور کوآپریٹو نظام کے ذریعے پہنچنے کی تجویز کی حمایت کی۔
انہوں نے عالمی بینک کے تحت مزید معاونت کی درخواست کرتے ہوئے کہا کہ گیس اور پاور سیکٹر میں جامع اصلاحات پاکستان کی معیشت کے لیے ناگزیر ہیں۔
وزیر خزانہ نے ’’کلائمیٹ پراسپرٹی پلان‘‘ پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ حکومت ملک کو کمزوری سے مزاحمت، اور خطرے سے سرمایہ کاری کی طرف منتقل کرنے کے لیے عملی اقدامات کر رہی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: دہی صحت مند غذا ہےمگر غلط وقت پر نقصان دہ ہوسکتی ہے!ماہرین کی نئی رپورٹ سامنے آ گئی
ایک علیحدہ ملاقات میں، ترک وزیر خزانہ محمد شمشک کے ساتھ گفتگو کے دوران، محمد اورنگزیب نے ٹیکس، توانائی، سرکاری اداروں، نجکاری اور پبلک فنانس کے شعبوں میں جاری اصلاحات پر تفصیل سے روشنی ڈالی۔




