دوحہ مذاکرات کا پہلا دور مکمل،کالعدم گروپوں کی افغانستان میں موجودگی ناقابل قبول قرار

دوحہ میں پاکستان اور افغانستان کے درمیان مذاکرات کا پہلا دور مکمل ہوگیا۔ ذرائع کے مطابق فریقین نے بات چیت کا سلسلہ جاری رکھنے پر اتفاق کیا ہےجبکہ مذاکرات آج بھی جاری رہیں گے۔پاکستان نے کالعدم گروپوں کی افغانستان میں موجودگی ناقابل قبول قرار دے دی۔

سرحدی کشیدگی کے بعد پاکستان اور افغان طالبان کے مابین مذاکرات کا پہلا دور ہفتے کے روز قطر کے دارالحکومت دوحہ میں ہو ا۔

پاکستان کی جانب سے وزیرِ دفاع خواجہ محمد آصف اور قومی سلامتی کے مشیر لیفٹیننٹ جنرل (ر) عاصم ملک نے مذاکرات میں شرکت کی، جبکہ افغان وفد کی قیادت وزیرِ دفاع ملا محمد یعقوب اور انٹیلی جنس چیف ملا واثق نے کی۔

ذرائع کے مطابق پاکستان نے افغانستان سے سرحد پار سے ہونے والے حملے فوری طور پر روکنے کا مطالبہ کیا ہے اور کہا ہے کہ اگر ٹی ٹی پی کے حملے نہ ہوئے تو پاکستان بھی کسی ردِعمل سے گریز کریگا۔

یہ بھی پڑھیں: پاکستان اور افغانستان کی جنگ ختم کرنا میرے لیے بہت آسان ہے،ڈونلڈ ٹرمپ

مذاکرات میں قطر کی جانب سے بھرپور سہولت کاری کی گئی، پاکستان نے افغان طالبان پر زور دیا کہ وہ ہمارے جائز سکیورٹی خدشات دور کرنے کے لیے فوری اقدامات کرے۔وفود کے درمیان بات چیت ایک نکاتی ایجنڈے پر ہو ئی، جس کا مقصد پاکستان پر خوارج کے حملے روکنا ہے۔

ترجمان دفترِ خارجہ کے مطابق بات چیت کا محور سرحد پار دہشت گردی کے خاتمے اور امن و استحکام کے فروغ پر ہے۔ پاکستانی وفد نے دوٹوک مؤقف اپناتے ہوئے کہا ہے کہ خوارج کے حملے برداشت نہیں کئے جائیں گے اور اگر حملہ ہوا تو بھرپور جواب دیا جائے گا۔

فریقین نے مذاکرات کے دوران 48 گھنٹے کی عارضی جنگ بندی کو مذاکرات کے دورانیے تک برقرار رکھنے پر اتفاق کیا تھا۔دفتر خارجہ کے مطابق پاکستان نے کابل انتظامیہ سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ اپنی سرزمین پر موجود دہشتگرد گروہوں کے خلاف قابلِ تصدیق کارروائیاں کرے۔

ترجمان نے قطر کی جانب سے جاری ثالثی کی کوششوں کو سراہتے ہوئے کہاکہ یہ مذاکرات خطے میں پائیدار امن و استحکام کی سمت ایک مثبت پیش رفت ہیں۔

Scroll to Top