جہلم ویلی:(کشمیر ڈیجیٹل)تقریباً گیارہ ماہ قبل نومبر 2024 ء میں جہلم ویلی کے علاقہ قاضی آباد میں سسرالیوں کی جانب سے مبینہ طور پر قتل کی گئی جویریہ زبیر کے قتل کو ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ہٹیاں بالا کے ڈاکٹر کی جانب سے خود کشی،سسرالیوں کی جانب سے طبعی موت قرار دینے اور سابق پولیس تفتیشی ٹیم کی جانب سے کیس داخل دفتر کیے جانے کے بعد اعلی سطحی میڈیکل بورڈ نے جویریہ کی موت کو قتل عمد قرار دے دیا،سٹی تھانہ ہٹیاں بالا نے سات افراد کے خلاف قتل کا مقدمہ درج کردیا،۔۔۔
تین افراد گرفتار باقیوں کی گرفتاری کے لیے پولیس کے چھاپے جاری،مبینہ طور پر قتل کو دبانے پر متعدد پولیس آفیسران،ڈاکٹرز سمیت دیگر افراد کے خلاف بھی گھیرا تنگ ہونے اور سخت قانونی کارروائی کا امکان۔۔۔
تفصیلات کے مطابق جہلم ویلی کے علاقہ قاضی آباد،،شاریاں میں 21 نومبر 2024 ء کو جویریہ زبیر اپنے کمرہ میں مردہ حالت میں پائی گئی،سسرالیوں نے اس کی موت کو طبعی قرار دیا،جب مقتولہ کی دادی کراچی سے قاضی آباد پہنچی تو اس نے مقتولہ کی گردن کے قریب تشدد کے نشانات دیکھے اور اپنے بیٹے کو بتایا جس کے بعد مقتولہ کے والدین اس کی نعش سسرالیوں کے گھر سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال ہٹیاں بالا لے گئے،جہاں پر مقتولہ کا پوسٹمارٹم کیا گیا،ڈاکٹر نے جویریہ کی موت خود کشی قرار دی ۔۔۔
والدین،دادا،دادی مقتولہ کی نعش اس کے سسرالیوں سے توں تکرار کے بعد مظفرآباد لے گئے جہاں نماز جنازہ ادائیگی کے بعد اسے وزیر اعظم ہاؤس سے ملحقہ قبرستان میں دفن کردیا گیا،تقریباً گیارہ ماہ تک مقتولہ کے والدین اور دادا جویریہ کی موت کو قتل قرار دیتے رہے لیکن کوئی بھی ان کی بات ماننے سے انکاری تھا،۔۔۔
قاضی آباد جویریہ زبیر ق ت ل،کیس گرفتار ملزمان میں عاقب منیر،لبید منیر اور کامران منیر شامل،دیگر کی گرفتاری کے لیے پولیس کے چھاپے۔قبل ازیں مقتولہ کے والد کی درخواست پر بحوالہ نقل رپٹ نمبر24 روزنامچہ 22 نومبر 24 تھانہ پولیس سٹی ہٹیاں بالا میں درج ہے پر زیر دفعہ 174 ض ف کا آغاز کرتے ہوئے سابقہ تفتیشی پولیس ٹیم نے متوفیہ مسماۃ جویریہ بی بی دختر زبیر بخاری کی موت کو خودکشی قرار دیتے ہوئے رپورٹ برائےملاحظہ ۔۔
انسپکٹر جنرل پولیس کو ارسال کی تھی،جس سے انسپکٹر جنرل پولیس نے اتفاق نہ کرتے ہوئے زیر نمبری CPO/PSO 26766-68 متوفیہ کی موت کی دوبارہ تحقیقات کا حکم ایس پی جہلم ویلی اور ڈی ایس پی ہیڈ کوارٹر مظفرآباد کو دیا جنہوں نے از سرنوانکوائری عمل میں لاتے ہوئے متوفیہ کی موت کو خودکشی قرار نہ دیتے ہوئے باقاعدہ /باضابطہ تفتیش کے لیے رپورٹ انسپکٹر جنرل پولیس کو ارسال کی اور متوفیہ کی پوسٹمارٹم رپورٹ کے لیے بذریعہ ڈسٹرکٹ مجسٹریٹ جہلم ویلی غیر جانبدار میڈیکل بورڈ کی تشکیل کے لیے ڈائریکٹر جنرل ہیلتھ آزاد کشمیر کو تحریک کیا،انسپکٹر جنرل پولیس نے تفتیشی ٹیم کی رپورٹ سے اتفاق کرتے ہوئے کاروائی ضابطہ عمل میں لانے کا حکم دیا،۔۔۔
میڈیکل بورڈ نے بھی زیر نمبری 25/MB/FM/AJKML/422 پندرہ اکتوبر 25 متوفیہ کی موت کو قتل عمد قرار دیا،اس کے علاوہ تمام استصوابیہ سوالات کے مفصل جوابات تحریر کیے،جس پر ایس پی جہلم ویلی نے کارروائی ضابطہ عمل میں لانے کے لیے جملہ کاغذات 174 ض ف معہ انکوائری رپورٹ،مشمولات،استصوابیہ پوسٹمارٹم رپورٹ میڈیکل بورڈ حوالے کیے،بروئے درخواست والد مقتولہ174 ض ف،انکوائری رپورٹ تفتیشی ٹیم،استصوابیہ رپورٹ پوسٹمارٹم میڈیکل بورڈ سے سردست جرائم PC-109/302/34کا ارتکاب ہونا پایا گیا،ایس ایچ او سٹی تھانہ ہٹیاں بالا منظر حسین چغتائی نے سات افراد کے خلاف مقدمہ قتل درج کر کے تین ملزمان عاقب منیر ولد محمد منیر،لبید منیر ولد محمد منیر،کامران منیر کو گرفتار کر کے باقی ملزمان کی گرفتاری کے لیے چھاپے مارنا شروع کر رکھے ہیں،۔۔
گیارہ ماہ بعد قتل سامنے آنے کے بعد متعدد پولیس آفیسران،رپورٹ پر دستخط کرنے والی خاتون ڈاکٹر/پوسٹمارٹم کے موقعہ پر موجود ڈاکٹرز اور کیس کو مبینہ طور پر دبانے والے افراد کے خلاف بھی سخت کارروائی کا امکان ظاہر کیا جا رہا ہے،جمعہ کے روز نامزد ملزمان عاقب منیر، کامران منیر اور لبید منیر کو عدالت میں پیش کیا گیا،عدالت نے تینوں ملزمان کا 22 اکتوبر تک جسمانی ریمانڈ منظور کر لیا،ریمانڈ منظور ہونے کے بعد پولیس نے تفتیش کا آغاز کردیا ہے مزید سنسنی خیز انکشافات کی توقع کی جارہی ہے ۔۔
مزید یہ بھی پڑھیں:کابل بھارت کی پراکسی بن چکا، زبردستی کی مہمان نوازی کے خاتمے کا وقت ہوا چاہتا ہے،وزیردفاع




