مظفرآباد میں فوڈ اتھارٹی کا کریک ڈاؤن، غیر معیاری ڈرائی فروٹس ضبط

مظفرآباد (کشمیر ڈیجیٹل) آزاد جموں و کشمیر کے دارالحکومت مظفرآباد میں سردیوں کے آغاز کے ساتھ ہی خشک میوہ جات کی خرید و فروخت میں نمایاں اضافہ دیکھنے میں آ رہا ہے، تاہم شہری مارکیٹوں میں دستیاب ڈرائی فروٹس کے معیار پر شدید تحفظات کا اظہار کر رہے تھے۔ عوامی شکایات کے بعد آزاد جموں و کشمیر فوڈ اتھارٹی نے فوری ایکشن لیتے ہوئے شہر بھر میں اچانک اور بھرپور کریک ڈاؤن شروع کر دیا۔

فوڈ اتھارٹی کی ٹیموں نے مختلف بازاروں، تجارتی مراکز اور ہول سیل مارکیٹوں کا دورہ کیا اور اخروٹ، بادام، کاجو، پستہ، چلغوزہ، کشمش سمیت دیگر خشک میوہ جات کی کوالٹی، اسٹوریج کے طریقہ کار اور صفائی ستھرائی کے انتظامات کا تفصیلی معائنہ کیا۔ دورانِ چیکنگ یہ بات سامنے آئی کہ بعض دکاندار نمی زدہ اور غیر معیاری ڈرائی فروٹس فروخت کر رہے تھے جن کی پیکنگ ناقص تھی اور انہیں مضرِ صحت ماحول میں ذخیرہ کیا گیا تھا۔

فوڈ اتھارٹی نے موقع پر ہی کارروائی کرتے ہوئے غیر معیاری اور مضرِ صحت ڈرائی فروٹس ضبط کر لیے جبکہ دو دکانوں کو فوڈ سیفٹی قواعد کی سنگین خلاف ورزیوں پر سیل کر دیا گیا۔ ٹیموں نے متعدد دکانداروں کو تنبیہ بھی کی اور سختی سے ہدایت جاری کی کہ آئندہ غیر معیاری اشیاء فروخت کرنے والوں کے خلاف مزید سخت کارروائیاں عمل میں لائی جائیں گی۔

فوڈ اتھارٹی کے ترجمان کے مطابق، یہ کارروائیاں “فوڈ اتھارٹی ایکٹ 2017” اور “پیور فوڈ ریگولیشن 2019” کے تحت کی جا رہی ہیں تاکہ عوام کو معیاری، محفوظ اور غذائیت سے بھرپور اشیائے خورونوش دستیاب ہو سکیں۔ ترجمان نے کہا کہ فوڈ اتھارٹی کا مقصد صرف کارروائی کرنا نہیں بلکہ عوامی آگاہی کو بھی فروغ دینا ہے تاکہ صارفین اپنی صحت کے معاملے میں محتاط رہیں۔

ڈسٹرکٹ فوڈ کنٹرولر مظفرآباد ابرار احمد میر نے اس موقع پر کہا کہ شہریوں کو چاہیے کہ وہ صرف تصدیق شدہ، لیبل شدہ اور پیک شدہ خشک میوہ جات خریدیں اور کھلے یا غیر معیاری اشیاء سے گریز کریں۔ انہوں نے مزید کہا کہ اگر کسی کو بھی کسی دکاندار کے خلاف شکایت ہو تو وہ فوری طور پر فوڈ اتھارٹی کو اطلاع دے تاکہ کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔

یہ بھی پڑھیں: آزاد کشمیر کے دو وزراء مستعفی، تحریری استعفے وزیراعظم آزاد کشمیر کو بھجوا دئیے

عوامی سطح پر اس کارروائی کو سراہا جا رہا ہے۔ شہریوں کا کہنا ہے کہ فوڈ اتھارٹی کا یہ اقدام قابلِ تحسین ہے کیونکہ ہر سال سردیوں کے موسم میں خشک میوہ جات کی مانگ بڑھنے کے ساتھ غیر معیاری اشیاء کی فروخت میں بھی اضافہ ہوتا ہے۔ لوگوں نے مطالبہ کیا کہ اس طرح کی چیکنگ مہم کو مستقل بنیادوں پر جاری رکھا جائے تاکہ عوام کو صحت مند اور محفوظ خوراک فراہم کی جا سکے۔

Scroll to Top