(کشمیر ڈیجیٹل) پاکستان میں رواں برس شدید سردی سے متعلق خبروں کے بعد محکمہ موسمیات نے وضاحت جاری کرتے ہوئے کہا ہے کہ ملک میں انتہائی سرد موسم کے دعوے بے بنیاد ہیں۔
محکمہ موسمیات کے مطابق دسمبر سے فروری کے دوران ملک کے بیشتر علاقوں میں بارشیں معمول کے مطابق یا معمول سے قدرے کم ہونے کا امکان ہے۔ ادارے نے کہا کہ بعض علاقوں میں مغربی ہواؤں کے گزرنے سے وقتی طور پر سردی میں اضافہ ہو سکتا ہے، تاہم یہ عام موسمی حالات کا حصہ ہے اور اس کا مطلب یہ نہیں کہ پورے ملک میں شدید یا ریکارڈ توڑ سردی آئے گی۔
چند روز قبل عالمی موسمیاتی ماہرین نے پاکستان میں رواں برس کئی دہائیوں بعد شدید سردی کی پیشگوئی کی تھی اور کہا تھا کہ یہ غیر معمولی سردی نایاب موسمیاتی رجحان ’’لا نینا‘‘ (La Niña) کے باعث ہوگی۔ اس خبر کے بعد عوام میں تشویش پھیل گئی تھی، لیکن محکمہ موسمیات پاکستان نے اس پیشگوئی کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ملک میں اس سال غیر معمولی یا ریکارڈ توڑ سردی کے کوئی آثار نہیں ہیں۔
محکمہ موسمیات نے واضح کیا کہ پنجاب اور سندھ میں دسمبر سے فروری کے دوران درجہ حرارت معمول سے کچھ زیادہ رہنے کا امکان ہے، جبکہ شمالی اور مغربی پہاڑی علاقوں میں برف باری معمول سے کم ہو سکتی ہے۔ مجموعی طور پر ملک میں ہلکی یا معتدل سردی متوقع ہے اور کسی بھی علاقے میں شدید سردی یا کڑاکے دار موسم کے آثار نہیں ہیں۔
ادارے نے عوام سے کہا ہے کہ وہ موسمی حالات کے بارے میں مصدقہ ذرائع سے ہی معلومات حاصل کریں اور غیر سائنسی خبروں یا افواہوں پر یقین نہ کریں۔ محکمہ موسمیات کے مطابق غیر مصدقہ خبریں عوام میں بلاوجہ تشویش پیدا کر سکتی ہیں، اس لیے ضرورت ہے کہ لوگ سوشل میڈیا یا غیر مستند ذرائع کی خبروں کو سنجیدگی سے نہ لیں۔
یہ بھی پڑھیں: بچے کو پولیو کے قطرے پلانے سے انکار پر اسسٹنٹ کمشنر نے والد کو بھی ویکسین پلادی
محکمہ موسمیات کی یہ وضاحت اس وقت سامنے آئی ہے جب پاکستان موسمیاتی تبدیلی کے اثرات سے شدید متاثرہ ممالک میں شامل ہے اور گزشتہ چند سالوں میں طوفانی بارشیں، کلاؤڈ برسٹ اور تباہ کن سیلاب کے باعث ملکی معیشت اور عوام کی زندگی متاثر ہوئی ہے۔ ادارے کی حالیہ رپورٹ کے مطابق اس سال موسم سرما میں ملک میں غیر معمولی سردی کے آثار نہیں ہیں، بلکہ عوام معتدل اور معمول کے مطابق سرد موسم کی توقع رکھ سکتے ہیں۔




