اسلام آباد (کشمیر ڈیجیٹل) وزیراعظم پاکستان میاں شہباز شریف کا کابینہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہنا تھا کہ افغانستان کے ساتھ جنگ بندی ٹھوس شرائط پر طویل ہو سکتی ہے۔‘
وزیراعظم شہباز شریف نے وفاقی کابینہ کے اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ حالیہ واقعات کے بعد پاکستان کے صبر کا پیمانہ لبریز ہو گیا ہے۔ فیلڈ مارشل عاصم منیر کی قیادت میں فوج نے افغان جارحیت کا منہ توڑ جواب دیا ہے۔‘
’افغانستان نے دہشت گردوں کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے جس کے بعد فتنہ الخوارج نے افواج پاکستان پر حملہ کیا۔‘
انہوں نے کہا کہ ’’یہ جنگ بندی افغان قیادت کی درخواست پر ممکن ہوئی ہے، ٹھوس شرائط پر جنگ بندی طویل بھی ہو سکتی ہے لیکن اگر اس جنگ بندی کا مقصد صرف مہلت کا حصول ہے تو ہم اس کی اجازت نہیں دیں گے۔‘
وزیراعظم شہباز شریف نے افغانستان کے ساتھ بھائی چارے کا رشتہ برقرار رکھنے کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ ’افغانستان نے دہشت گردوں کو خوش آمدید کہا اور ان کو کھلی چھوٹ دے رکھی ہے۔ اب گیند افغانستان کے کورٹ میں ہے۔‘
ان کا کہنا تھا کہ ’اس جنگ بندی کے لیے دوست ممالک بالخصوص قطر نے اہم کردار ادا کیا۔‘
’پاکستان نے محدود وسائل کے باوجود افغان پناہ گزینوں کی میزبانی کی لیکن جب انڈیا کی شہ پر پاکستان پر یہ حملہ ہو رہا تھا تو اس وقت افغان وزیرخارجہ امیر خان متقی انڈیا میں موجود تھے۔‘
انہوں نے یہ بھی کہا کہ ’کچھ لوگ غزہ کے معاملے پر سیاست کرنا چاہتے تھے۔ پاکستان نے ہمیشہ فلسطین کے عوام کے لیے آواز اٹھائی ہے۔ فلسطین کی ریاست بننی چاہیے۔‘
’غزہ جنگ بندی میں سعودی عرب، قطر، مصر، متحدہ عرب امارات، ترکیہ اور پاکستان نے اپنا فرض نبھایا۔‘
مزید یہ بھی پڑھیں:کیاغزنوی، ابدالی، غوری میزائلوں کے نام بدلیں جائیں گے ؟ کئی سوالات اٹھ گئے




