(کشمیر ڈیجیٹل)اکثر گھروں میں دیکھا گیا ہے کہ لوگ موبائل فون کے چارجر، ٹی وی یا دیگر برقی آلات بند کرنے کے بعد ان کا پلگ سوئچ بورڈ میں لگا رہنے دیتے ہیں۔ بظاہر یہ معمولی بات لگتی ہے، مگر ماہرین کے مطابق یہ عمل بجلی کے غیر محسوس ضیاع کا باعث بنتا ہے جسے ’’فینٹم انرجی‘‘ یا ’’ویمپائر انرجی‘‘ کہا جاتا ہے۔
توانائی کے ماہرین کا کہنا ہے کہ یہ وہ بجلی ہے جو آلات بند ہونے کے باوجود استعمال میں رہتی ہے۔ مثال کے طور پر اگر ٹی وی، مائیکروویو اوون، گیمنگ کونسولز، لیپ ٹاپ چارجرز یا دیگر برقی ڈیوائسز کا پلگ مسلسل سوئچ بورڈ میں لگا رہے تو یہ خاموشی سے بجلی چوسنے کا عمل جاری رکھتے ہیں۔
امریکا کی کولمبیا یونیورسٹی کے کولمبیا کلائمیٹ اسکول سے تعلق رکھنے والے ماہر الیکسز ابرامسن کے مطابق، گھروں میں استعمال ہونے والی کل بجلی کا تقریباً 5 سے 10 فیصد حصہ ان غیر استعمال شدہ مگر جڑے رہنے والے آلات کی وجہ سے ضائع ہو جاتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ ضیاع چھوٹے پیمانے پر تو بظاہر معمولی محسوس ہوتا ہے، مگر مجموعی طور پر یہ ماحول پر منفی اثر ڈال سکتا ہے۔
تحقیقی رپورٹوں کے مطابق، جدید اسمارٹ ٹی وی بند ہونے کے باوجود بھی 40 واٹ تک بجلی خرچ کرتے ہیں، جو عام ٹی وی کے مقابلے میں تقریباً 40 گنا زیادہ ہے۔ اسی طرح دیگر برقی آلات جیسے مائیکروویو اوون، گیمنگ کونسولز، لیپ ٹاپ چارجرز اور انٹرنیٹ روٹرز بھی توانائی کی مجموعی کھپت میں اپنا حصہ ڈالتے ہیں۔
ماہرین نے واضح کیا ہے کہ وہ آلات جو اسٹینڈ بائی موڈ پر رہتے ہیں یا جن میں ڈسپلے، گھڑی یا وائی فائی کنکشن جیسی خصوصیات مستقل آن رہتی ہیں، وہ زیادہ بجلی ضائع کرتے ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ گھروں میں بجلی کے غیر ضروری استعمال کو کم کرنے کے لیے محتاط رویہ اختیار کرنا ناگزیر ہے۔
یہ بھی پڑھیں: طاقتور ترین پاسپورٹس کی فہرست میں ایشیائی ممالک سرفہرست ، پاکستان کمزور ترین ممالک میں شامل
انرجی ایکسپرٹس کے مطابق، توانائی کے اس ضیاع کو کم کرنے کے لیے بہتر طریقہ یہ ہے کہ استعمال کے بعد تمام برقی آلات کے پلگ نکال دیے جائیں اور غیر ضروری طور پر اسٹینڈ بائی موڈ میں رکھی اشیاء کو مکمل طور پر بند کر دیا جائے۔ اگرچہ اس عادت سے بجلی کے بل میں فوری اور بڑا فرق نہیں پڑے گا، تاہم طویل مدت میں یہ عمل توانائی کی بچت اور ماحولیاتی بہتری میں نمایاں کردار ادا کر سکتا ہے۔




