وزیراعظم شہباز شریف نے ٹرمپ کو “مین آف دی پیس” قرار دے کر دوبارہ نوبل امن انعام کے لیے نامزد کر دیا

وزیراعظم شہباز شریف نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کو “مین آف دی پیس” قرار دیتے ہوئے ایک مرتبہ پھر نوبل امن انعام کے لیے نامزد کر دیا۔

یہ اعلان غزہ امن معاہدے پر دستخطوں کے بعد منعقدہ مشترکہ پریس کانفرنس کے دوران کیا گیا، جس میں عالمی رہنماؤں کی بڑی تعداد موجود تھی۔وزیراعظم نے کہا کہ صدر ٹرمپ کی قیادت اور انتھک سفارتی کوششوں نے دنیا بھر میں امن کے فروغ میں نمایاں کردار ادا کیا ہے، خاص طور پر جنوبی ایشیا اور مشرق وسطیٰ میں جہاں ان کی مداخلت سے کئی سنگین تنازعات ٹل گئے۔

شہباز شریف نے اس موقع پر کہا کہ اگر صدر ٹرمپ کی بروقت سفارتی کوششیں نہ ہوتیں تو جنوبی ایشیا میں قیامت برپا ہو جاتی۔ انہوں نے بتایا کہ چار روزہ جنگ امریکی صدر کی مداخلت سے روکی گئی، جس سے لاکھوں زندگیاں بچ گئیں۔

غزہ امن معاہدے کے موقع پر امریکا، قطر، ترکیہ، اردن، سعودی عرب، متحدہ عرب امارات اور مصر کے سربراہان بھی شریک ہوئے۔ اس تاریخی دستخطی تقریب کے بعد مشرق وسطیٰ میں کئی دہائیوں سے جاری خونریز تنازعات کے خاتمے کی امید پیدا ہو گئی ہے۔

صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے اپنے خطاب میں وزیراعظم شہباز شریف اور فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کے کردار کو سراہا اور کہا کہ پاکستان نے امن کے فروغ میں جو کردار ادا کیا وہ قابل تحسین ہے۔

وزیراعظم شہباز شریف نے مزید کہا کہ صدر ٹرمپ نے دنیا بھر میں آٹھ مختلف جنگوں کو رکوانے میں کردار ادا کیا، جن میں مشرق وسطیٰ، جنوبی ایشیا اور افریقہ کے تنازعات شامل ہیں۔ ان کا کہنا تھا کہ امریکی صدر کی قیادت بے مثال ہے، اور آج دنیا کو اسی طرح کی قیادت کی ضرورت ہے۔ اسی لیے ہم انہیں دوبارہ نوبل امن انعام کے لیے نامزد کرتے ہیں، کیونکہ وہ اس کے واقعی حقدار ہیں۔

شہباز شریف نے علاقائی قیادت، بالخصوص امیرِ قطر، سعودی ولی عہد محمد بن سلمان، اردن کے شاہ عبداللہ، متحدہ عرب امارات اور مصر کے صدر عبدالفتاح السیسی کی کاوشوں کو بھی سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ ان رہنماؤں کی مشترکہ حکمتِ عملی نے خطے میں امن کے قیام میں کلیدی کردار ادا کیا۔

دوسری جانب، صدر ٹرمپ نے شہباز شریف کے خراجِ تحسین پر شکریہ ادا کرتے ہوئے کہا کہ وہ پاکستان اور بھارت کے درمیان امن و دوستی کے فروغ کے خواہاں ہیں، کیونکہ جنوبی ایشیا میں پائیدار امن ہی ترقی کی ضمانت ہے۔

بین الاقوامی برادری اس معاہدے کو ایک بڑی سفارتی کامیابی کے طور پر دیکھ رہی ہے۔ وزیراعظم شہباز شریف کی جانب سے صدر ٹرمپ کی نوبل انعام کے لیے دوبارہ نامزدگی پاکستان کی عالمی سطح پر امن کے فروغ کے لیے امریکی کردار کو تسلیم کرنے کا عندیہ ہے۔ یہ پیشرفت مشرق وسطیٰ میں ایک نئے باب کے آغاز کے ساتھ ساتھ جنوبی ایشیا میں بھی مثبت رجحان کی علامت قرار دی جا رہی ہے۔

Scroll to Top