نیویارک (کشمیرڈیجیٹل) اقوامِ متحدہ کی تیسری کمیٹی کے عمومی مباحثے کے دوران پاکستانی مندوب صائمہ سلیم نے بھارتی بیان کا کرارا جواب دیتے ہوئے کہا کہ بھارت خطے کو عدم استحکام کا شکار اور دہشت گردی کی سرپرستی کر رہا ہے۔
پاکستانی قونصلر صائمہ سلیم نے اپنے خطاب میں کہا کہ ان کا وفد بھارتی نمائندے کے بیان کے جواب میں اپنا حقِ جواب استعمال کر رہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ پروپیگنڈا ظلم و ستم کو نہیں چھپا سکتا، اور انکار سے جھوٹ سچ نہیں بن جاتا۔ صائمہ سلیم نے کہا کہ وہ ناقابلِ تردید حقائق پیش کر رہی ہیں کہ مقبوضہ جموں و کشمیر بھارت کا نام نہاد “اٹوٹ انگ” کبھی نہیں رہا۔ ان کا کہنا تھا کہ سلامتی کونسل کی قراردادیں اس حقیقت کی گواہ ہیں کہ پاکستان نے کشمیری عوام کے ناقابلِ تنسیخ حقِ خود ارادیت کی غیر متزلزل حمایت کا ہمیشہ اعادہ کیا ہے۔
انہوں نے کہا کہ کشمیری عوام ریاستی دہشت گردی اور انسانی حقوق کی سنگین پامالیوں کا شکار ہیں۔ بھارت کے پاس چھپانے کے لیے کچھ نہیں، اسے انسانی حقوق کی تنظیموں اور عالمی میڈیا کو مقبوضہ علاقوں تک رسائی دینا ہوگی۔ صائمہ سلیم نے کہا کہ کشمیری عوام آزادی چاہتے ہیں، جو وعدہ اقوامِ متحدہ نے سلامتی کونسل کی قراردادوں کے ذریعے کیا تھا۔
پاکستانی مندوب نے مزید کہا کہ بھارت کی نام نہاد جمہوریت اب عدم برداشت کے تھیٹر میں تبدیل ہوچکی ہے، جہاں اسلاموفوبیا اور نفرت کو ادارہ جاتی شکل دے دی گئی ہے۔ ہندوتوا کے پرچم تلے اقلیتیں خوف کے سائے میں زندگی گزار رہی ہیں، مسلمان زندہ جلائے جاتے ہیں، مساجد گرائی جاتی ہیں، کلیسا جلائے جاتے ہیں اور نسل کُشی کے مطالبات معمول بن چکے ہیں۔
ان کا کہنا تھا کہ یہ تعصب اور نفرت بھارت کے سیکولر ازم کے نقاب کو جلا چکے ہیں، جبکہ بھارت کا ریکارڈ جارحیت سے بھرا ہوا ہے۔ صائمہ سلیم نے کہا کہ پاکستان کی خودمختاری اور علاقائی سالمیت کی بارہا خلاف ورزیاں کی گئیں، بلا اشتعال حملے کیے گئے، اور 10 مئی کے واقعات نے بھارت کے جارحانہ عزائم کو بے نقاب کیا۔
انہوں نے کہا کہ بھارت کی چھوٹے پڑوسی ممالک کے خلاف جبری پالیسیاں اس کے غیر ذمہ دارانہ رویے کو ظاہر کرتی ہیں۔ صائمہ سلیم نے خبردار کیا کہ بھارت جنوبی ایشیا کے امن اور استحکام کے لیے سب سے بڑا خطرہ بن چکا ہے۔
انہوں نے کہا کہ جب دنیا ماحولیاتی تبدیلی کے اثرات جیسے سیلاب اور خشک سالی سے نبرد آزما ہے، بھارت آبی وسائل کو ہتھیار کے طور پر استعمال کر کے بین الاقوامی قوانین کی خلاف ورزی کر رہا ہے۔ سندھ طاس معاہدے کو معطل رکھنا انسانی وقار کی توہین اور پاکستانی عوام کے انسانی حقوق کی پامالی ہے۔
یہ بھی پڑھیں: سونےکی بڑھتی ہوئی قیمتوں نے جیولرز کو مشکل میں ڈال دیا،زیورات بننابند
آخر میں پاکستانی مندوب نے کہا کہ جب تک بھارت جموں و کشمیر پر قبضہ ختم نہیں کرتا اور ریاستی دہشت گردی ترک نہیں کرتا، خطے میں امن خواب ہی رہے گا۔ پاکستان انصاف، امن اور مظلوم کشمیری عوام کے حقوق کے لیے ہمیشہ ڈٹ کر کھڑا رہے گا۔




