آزاد کشمیر میں زلزلہ شہداء کی بیسویں برسی: دعائیہ تقریبات اور یادگار ریلیاں منعقد

آزاد کشمیر میں 8 اکتوبر 2005 کے ہولناک زلزلہ کی بیسویں برسی پر پوری وادی میں دعائیہ تقریبات، ریلیاں اور یادگار اقدامات منعقد کیے گئے۔ اس موقع پر زلزلہ کے شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا گیا اور ان کے ایصال ثواب کے لیے خصوصی دعائیں کی گئیں۔

ضلع کوٹلی:

ضلع کوٹلی میں نمازِ فجر کے بعد شہدائے زلزلہ کے درجات کی بلندی اور لواحقین کے صبر و حوصلے کے لیے دعائیں کی گئیں۔ صبح 8 بج کر 52 منٹ پر زلزلے کے وقت کی یاد تازہ کرتے ہوئے سائرن بجایا گیا اور ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ صبح 9 بج کر 30 منٹ پر ڈپٹی کمشنر آفس کوٹلی کے صحن میں مرکزی دعائیہ تقریب منعقد ہوئی، جس میں ایڈیشنل ڈپٹی کمشنر فیض عالم، ڈسٹرکٹ ہیلتھ آفیسر سید شفقت حسین شاہ، اے ڈی سول ڈیفنس سردار تعظیم، ضلع مفتی زاہد محمود، تحصیلدار خالد کبیر اور تحصیلدار علی اعظم کے علاوہ مختلف محکمہ جات کے افسران، شہری اور سول سوسائٹی کے نمائندگان شریک ہوئے۔ پشرکاء نے زلزلہ شہداء کو خراج عقیدت پیش کیا اور عزم ظاہر کیا کہ ان کی قربانیوں کو کبھی فراموش نہیں کیا جائے گا۔

راولاکوٹ:

راولاکوٹ کے ڈسٹرکٹ کمپلیکس میں بھی صبح 8 بج کر 52 منٹ پر سائرن بجا کر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔ ضلع بھر میں تعلیمی اداروں اور دینی مدارس میں دعائیہ تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ تقریب میں مرد و خواتین کی بڑی تعداد نے شرکت کی اور پاکستان کی سلامتی و کشمیر کی آزادی کے لیے دعائیں کی گئیں۔

مظفرآباد:

یونیورسٹی کالج گراؤنڈ میں شہداء کے ایصال ثواب کے لیے دعائیہ تقریب ہوئی، جس میں وزراء حکومت، چیف سیکرٹری اور اعلیٰ عسکری حکام نے شرکت کی۔ پولیس کے چاق و چوبند دستوں نے یادگار شہداء پر سلامی دی اور وزیر حکومت و چیف سیکرٹری نے پھول چڑھائے۔

وادی نیلم اور جہلم ویلی:

وادی نیلم اور جہلم ویلی میں بھی ضلعی ہیڈکوارٹرز اور دیگر مقامات پر دعائیہ تقریبات کا انعقاد کیا گیا۔ جہلم ویلی میں ڈپٹی کمشنر آفس ہٹیاں بالا میں تقریب منعقد ہوئی، جس میں ضلعی انتظامیہ، پولیس، ریسکیو 1122، سیول ڈیفنس، علماء کرام، بلدیاتی نمائندگان، سیول سوسائٹی اور عوام نے شرکت کی۔ صبح کا آغاز مساجد میں تلاوت قرآن اور دعائیہ تقریبات سے کیا گیا، اور 8:52 پر سائرن بجا کر ایک منٹ کی خاموشی اختیار کی گئی۔

دعائیہ پیغامات:

ڈپٹی کمشنر محترمہ بینش جرال اور ایس پی عباس علی گردیزی نے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ:

“8 اکتوبر 2005 کے تباہ کن زلزلہ میں ہم نے اپنے بہت سارے پیاروں کو کھویا، لیکن بحالی اور تعمیر نو کے عمل نے عوام میں مثبت تبدیلی لائی۔ پاکستان اور دیگر ممالک نے مشکل گھڑی میں ہمارا ساتھ دیا۔ ہم دعا کرتے ہیں کہ اللّٰہ تعالٰی ہمیں ایک دوسرے کے دکھ درد کو سمجھنے اور بانٹنے کی توفیق عطا فرمائے۔”

زلزلے کے اثرات اور بحالی:

زلزلے میں 73 ہزار سے زائد افراد شہید، ایک لاکھ سے زائد زخمی اور لاکھوں بے گھر ہوئے۔ آزاد کشمیر کی 56 فیصد آبادی متاثر ہوئی، جبکہ صحت، تعلیم، آب رسانی اور مواصلات کی 53 فیصد سہولیات مکمل تباہ ہوئیں۔ نقصان کا تخمینہ 125 ارب روپے سے زائد لگایا گیا۔ حکومت پاکستان اور افواجِ پاکستان نے “آپریشن لائف لائن” کے ذریعے مثالی ریلیف فراہم کیا، اور BUILD BACK BETTER ویژن کے تحت آزاد کشمیر اور کے پی میں 7608 منصوبے شروع کیے گئے، جن میں سے 5878 مکمل اور 919 زیرتعمیر ہیں۔

تعلیم کے 2718 منصوبوں میں سے 1606 مکمل اور 515 زیرتعمیر ہیں۔ صحت کے 160 منصوبوں میں سے 119 مکمل اور 21 زیرتعمیر ہیں۔ گورننس کے 223 منصوبوں میں 161 مکمل اور 60 زیرتعمیر ہیں۔ آب نوشی و نکاسی کے 2795 منصوبوں میں سے 2714 مکمل ہوچکے ہیں۔ مجموعی تعمیرنو پروگرام کا حجم 225 ارب روپے تک پہنچا ہے، جس میں 181 ارب روپے کے اخراجات ہوچکے ہیں، جبکہ مزید 44 ارب روپے درکار ہیں۔ طالبات کے 476 سکولز نامکمل ہیں، جن کی تکمیل کے لیے وفاقی حکومت سے 1 ارب روپے کی فراہمی کی درخواست کی گئی ہے۔

میرپور میں واک:

میرپور میں بھی شہداء کی یاد میں واک کا اہتمام کیا گیا، جس میں زلزلہ میں یتیم ہونے والے بچوں نے بھی حصہ لیا۔ دعائیہ تقریب کے اختتام پر فاتح خوانی اور لنگر کا انتظام کیا گیا۔

یہ بھی پڑھیں: یادیں، آنسو اور دعائیں ، 8 اکتوبر کا دن پھر لوٹ آیا،20سال بعد بھی بحالی منصوبے نامکمل

زلزلہ متاثرہ اضلاع میں عوام کی ہمت، استقامت اور تعمیرنو کی داستان بے مثال رہی۔ یہ موقع یاد دلاتا ہے کہ زندگی میں خوشیاں اور غم انسانی تجربے کا حصہ ہیں، اور ایک دوسرے کے دکھ درد کو بانٹنا ہم سب کی ذمہ داری ہے۔

Scroll to Top